ڈوپنگ: واڈا کے مؤقف سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے فاسٹ بالرز شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ کیس کے معاملے میں ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ( واڈا) کے مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ یہ پاکستانی کرکٹ کا اندرونی معاملہ ہے جو اب ختم ہوچکا ہے اور وہ اس پر مزید تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ سے کلیئر کیے جانے کے پاکستانی اپیل کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے سوئٹزرلینڈ میں اسپورٹس کی ثالثی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی ڈوپنگ ٹریبونل نے، جس کے سربراہ بیرسٹر شاہد حامد تھے، ممنوعہ ادویات کے استعمال پر شعیب اختر پر دو اور محمد آصف پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی۔ بعد میں جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں اپیل کمیٹی نے پابندی کی یہ سزا یہ کہہ کر ختم کردی تھی کہ اس معاملے کا تعلق واڈا نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قواعد وضوابط سے ہے۔
تاہم اپیل کمیٹی کے ایک رکن ڈاکٹر دانش ظہیر نے جسٹس( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم اورحسیب احسن کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا تھا اور انہوں نے دونوں فاسٹ بالرز کے دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ کی تجویز پیش کی تھی جو مسترد کردی گئی۔ واڈا نے دونوں فاسٹ بالرز کے بری کیے جانے کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ واڈا کے چیئرمین ڈک پونڈ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی واڈا کے ڈوپنگ کوڈ پر عمل کرنے کی پابند ہے اور پاکستان آئی سی سی کا ایک رکن ہے۔ ڈک پونڈ نے اس معاملے میں آئی سی سی کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ڈک پونڈ چاہتے ہیں کہ ثالثی عدالت اس معاملے کو جلد از جلد نمٹائے۔ | اسی بارے میں نسیم اشرف کا خط: کمیشن کی توہین11 December, 2006 | کھیل ’کرکٹ بورڈ نےاثرانداز ہونا چاہا‘09 December, 2006 | کھیل آئی سی سی کی پاکستان پر تنقید07 December, 2006 | کھیل ’فارموں پر نام کی بجائے نمبر تھے‘06 December, 2006 | کھیل شعیب، آصف پر پابندی ختم 05 December, 2006 | کھیل شعیب پر دو آصف پر ایک سال01 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||