BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسیم اشرف کا خط: کمیشن کی توہین

شعیب اختر اور محمد آصف
شعیب اختر اور محمد آصف کو اینٹی ڈوپنگ کمیشن نے ایک اور دو سال کی سزا دی تھی
فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کو ممنوعہ ادویات کے استعمال کے ارتکاب میں دو اور ایک سال کی پابندی کی سزا سنانے والے اینٹی ڈوپنگ کمیشن کے سربراہ بیرسٹر شاہد حامد کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر نسیم اشرف کا انہیں تحریر کردہ خط کمیشن کے لیے توہین امیز اور ناقابل قبول تھا۔

بیرسٹر شاہد حامد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کمیشن کا فیصلہ آنے سے تین دن قبل انہیں خط بھیجا تھا جسے وہ کمیشن کے کام میں مداخلت اور توہین سمجھتے ہیں۔

انہوں نے اس خط پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے جذبات سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن معین افضل کو آگاہ کردیا تھا اور ان سے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ ڈاکٹر نسیم اشرف کو بتا دیں کہ اس طرح کے پیغامات اور ہدایتیں ناقابل قبول ہیں۔

بیرسٹر شاہد حامد نے، جو پنجاب کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، نے سوال اٹھایا ہے ’کیا پی سی بی کے چیئرمین اس خط سے یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ فیصلہ کرکٹ بورڈ نے تیار کرلیا ہے کمیشن نے اسے صرف سنانا ہے؟‘

بیرسٹر شاہد حامد نے سوال بھی کیا ہے کہ ان کی ساری عمر وکالت میں گزرگئی، کیا انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئر مین یا کوئی اور یہ بتائے گا کہ کن امور کا خیال رکھنا ہے اور کن امور کا نہیں؟

ڈاکٹر نسیم اشرف نے فیصلہ آنے سے تین دن قبل اینٹی ڈوپنگ کمیشن کو خط لکھا تھا۔

ڈوپنگ کمیشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ انہیں معین افضل کے ذریعے یہ پیغام ملا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف ان سے اپنے خط کی معذرت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد نسیم اشرف نے فون کرکے معذرت کی جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔

بیرسٹر شاہد حامد کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے جو بھی فیصلہ کیا وہ میرٹ پر کیا۔

جسٹس( ریٹائرڈ ) فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں قائم اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی کی جانب سے شعیب اختر اور محمد آصف کو بری کیے جانے کے فیصلے کے بارے میں بیرسٹر شاہد حامد نے کہا کہ وہ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے۔

بیرسٹر شاہد حامد نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ پر تمام کرکٹرز نے دستخط کیے ہیں اور وہ آئی سی سی اور پی سی بی اینٹی ڈوپنگ پالیسی کے پابند ہیں۔ جہاں تک ممنوعہ ادویات کی مستند لسٹ کا تعلق ہے تو وہ بھی ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجسنی ( واڈا) کی منظور کردہ ہے لہذا اس تمام معاملے میں آئی سی سی اور واڈا کے ریگولیشنز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ سب کچھ کرکٹرز کے کنٹریکٹ میں موجود ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد