BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فارموں پر نام کی بجائے نمبر تھے‘

آصف اور شعیب
قانون کے مطابق ڈوپنگ فارم پر مشتعبہ کھلاڑی کا نام لکھنا ضروری ہے
اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی کے رکن ڈاکٹر دانش ظہیر نے انکشاف کیا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے نام ڈوپنگ فارم پر موجود نہیں تھے بلکہ ان کی جگہ نمبر ڈالے گئے تھے۔

ڈاکٹر دانش ظہیر برونائی میں مقیم ہیں اور سپورٹس میڈیسن آف پاکستان کے صدر ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں جسٹس ( ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراھیم اور حیسب احسن کے ساتھ اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی میں شامل کیا تھا۔

اس کمیٹی نے پیر کو شعیب اختر اور محمد آصف کو ممنوعہ ادویات استعمال کے الزام سے بری کرتے ہوئے ان پر عائد دو اور ایک سالہ پابندی ختم کردی ہے تاہم ڈاکٹر دانش ظہیر نے اپیل کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دونوں ساتھیوں کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ دونوں فاسٹ بولرز کا معاملہ غیر معمولی صورت کا ہے۔
بیرسٹر شاہد حامد کی سربراہی میں قائم کمیشن نے بھی دونوں بولرز سے کہا تھا کہ انہوں نے جو فوڈ سپلیمنٹس استعمال کیے ہیں ان کے بارے میں کمیشن کو بتائیں لیکن وہ شواہد پیش کرنے سے قاصر رہے تھے۔

ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جن حالات اور طریقہ کار کے تحت دونوں بولرز کے ڈوپ ٹیسٹ کرائے ہیں وہ بین الاقوامی مروجہ قواعدوضوابط کے مطابق نہیں تھے۔

ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ انہوں نے شعیب اختر اور محمد آصف کے فارموں پر ان کے نام نہیں بلکہ نمبر لکھے ہوئے دیکھے اور اس کے ساتھ فارم پر موجود کئی سوالات کے جوابات بھی نہیں دیے گئے تھے

کرکٹ بورڈ کے قائم کردہ اینٹی ڈوپنگ کمیشن میں ڈوپنگ کے شعبے کے ماہرین شامل نہیں تھے لہذا انہوں نے بھی اہم بنیادی باتوں پر توجہ نہیں دی۔
ڈاکٹر دانش ظہیر
جبکہ واڈا کا قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ کھلاڑی کا نام ڈوپنگ فارم پر لازمی لکھا ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو کھلاڑی کے نام کے سپیلنگ نہیں آتے تو خود مذکورہ کھلاڑی سے فارم پر اس کا نام لکھوایا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ درحقیقت کرکٹ بورڈ کے قائم کردہ اینٹی ڈوپنگ کمیشن میں ڈوپنگ کے شعبے کے ماہرین شامل نہیں تھے لہذا انہوں نے بھی اہم بنیادی باتوں پر توجہ نہیں دی۔

ڈاکٹر دانش ظہیر نے کہا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ دونوں بولرز کے بین الاقوامی معیار کے مطابق دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ کرائے جائیں۔

اس سوال پر کہ کیا شعیب اختر اور محمد آصف کو بری کرنے کےفیصلے کو واڈا یا آئی سی سی تسلیم کرلیں گے؟ ڈاکٹر دانش ظہیر نے کہا کہ انہوں نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے اس کی بنیاد پر واڈا یا آئی سی سی کے لیے بین الاقوامی ثالثی عدالت میں دونوں بولرز کو سزا دلوانا آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
آصف نے اپیل کر دی
06 November, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد