واڈا اپیل: ’ثالثی عدالت مجاز نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت پر واضح کردیا ہے کہ وہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ کیس کی سماعت کی مجاز نہیں ہے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ( واڈا ) کی جانب سے شعیب اختر اور محمد آصف کو بری کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیے جانے کے بعد عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹس بھیجا تھا، جس پر پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ پی سی بی کے ترجمان کے مطابق انہوں نے اپنے قواعد وضوابط کے تحت ڈوپنگ کا معاملہ نمٹایا ہے اور جہاں تک عالمی عدالت کا تعلق ہے تو اسے سماعت کا اختیار نہیں کیونکہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ پی سی بی کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا سماعت ہونے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ اس میں پیش ہو گا؟ تو انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر اس کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ شعیب اختر اور محمد آصف کو پی سی بی کے قائم کردہ اینٹی ڈوپنگ کمیشن نے ممنوعہ ادویات استعمال کرنے پر دو اور ایک سال کی پابندی کی سزا سنائی تھی لیکن بورڈ ہی کے قائم کردہ اپیل ٹریبونل نے انہیں بری کردیا تھا جس پر ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کو اعتراض تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ واڈا کا کہنا یہ ہے کہ دونوں بولرز کے کھیلنے یا نہ کھیلنے کا تعلق آئی سی سی سے ہے لیکن آئی سی سی اس بارے میں اپنی بے بسی ظاہر کرچکی ہے۔ پی سی بی نے جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں محمد آصف کو شامل کرلیا ہے تاہم فٹنس نہ ہونے کی وجہ سے شعیب اختر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ | اسی بارے میں جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم کا اعلان29 December, 2006 | کھیل شعیب، آصف پر پابندی ختم 05 December, 2006 | کھیل آئی سی سی کی پاکستان پر تنقید07 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ: واڈا کے مؤقف سے انکار16 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ: پی سی بی کا محتاط انداز23 December, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر قبول نہیں: پی سی بی19 October, 2006 | کھیل نسیم اشرف کا خط: کمیشن کی توہین11 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||