ڈیرل ہیئر قبول نہیں: پی سی بی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے عندیہ دیا ہے کہ کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کو ایک خط کے ذریعے یہ واضح کیا جارہا ہے کہ آسٹریلوی ایمپائر ڈیرل ہیئر پاکستان کو قبول نہیں۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈیرل ہیئر کے بارے پاکستان کے سخت مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔انہوں نے بتایا کہ خط میں ڈیرل ہیئر کی ماضی میں پاکستان کے میچوں میں کی گئی ’غلطیوں‘ اور ’جانبداری‘ کی تفصیلات کا ذکر بھی ہوگا۔ ڈیرل ہیئر اب تک پاکستان کی طرف سے کھیلے گئے سترہ ٹیسٹ اور پینتیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کا فریضہ سر انجام دے چکے ہیں۔ ڈاکٹرنسیم اشرف نے اوول ٹیسٹ ’غیرمنطقی‘ انداز میں ختم کرنے کا ذمہ دار آسٹریلوی امپائر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیرل ہیئر اوول ٹیسٹ کا ’ولن‘ ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ان کی ذات میں جج، جیوری اور جیلر تینوں ذمہ داریاں ایک ساتھ موجود ہیں۔ ’یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک ہی شخص الزام بھی لگائے فیصلہ بھی دے اور سزا پر عملدرآمد بھی کرائے‘۔ پی سی بی کے سربراہ اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کے تنازعے کے بعد پاکستانی ٹیم کے میدان میں دیر سے جانے کا ذمہ دار انضمام الحق کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اس ’حرکت‘ سے کافی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ نسیم اشرف کے خیال میں یہ ممکن ہے کہ انضمام الحق کو قوانین کا علم نہیں تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کھیلنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جب وہ (انضمام) کھیلنے کے لیے تیار ہوئے تو ڈیرل ہیئر نے کھیل جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ | اسی بارے میں بال ٹیمپرنگ تنازعہ: انضمام ڈٹ گئے22 August, 2006 | کھیل انضمام پر کھیل کو بدنام کرنے کا الزام21 August, 2006 | کھیل اوول تنازعہ اخبارات کی نظر میں21 August, 2006 | کھیل نہ کھیل، نہ کھلاڑیوں کے لیئے اچھا ہوا21 August, 2006 | کھیل پاکستان کا آئی سی سی سے احتجاج21 August, 2006 | کھیل احتجاج عزت کے لیئے کیا: ظہیر21 August, 2006 | کھیل چوتھے روز کا کھیل ختم کر دیا گیا20 August, 2006 | کھیل پاکستان کو گیند خراب کرنے پر سزا20 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||