BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 December, 2006, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈوپنگ: پی سی بی کا محتاط انداز

شعیب اور آصف
شعیب اور آصف کو جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے لگانئے جانے والے کیمپ میں شامل کیا گیا ہے
پاکستانی فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کی بریت کے فیصلے کو ورلڈ انٹی ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے محتاط انداز اختیار کیا ہوا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اور کمیونیکیشن ڈاکٹر احسن ملک کا کہنا ہے کہ واڈا یا آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے لہذا اس مرحلے پر کوئی بھی بات کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈوپنگ کے بارے میں پالیسی واضح ہے اور اس بارے میں کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی ڈوپنگ کمیشن نے شعیب اختر اور محمد آصف پر ممنوعہ ادویات استعمال کرنے پر دو اور ایک سال کی پابندی عائد کی تھی لیکن یہ پابندی اپیل ٹریبونل نے ختم کر دی تھی۔

واڈا نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کھیلوں کی عالمی عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کا دونوں فاسٹ بولرز کو بری کرنے کا فیصلہ واڈا کے لیے ناقابل قبول ہے۔

 کھیلوں کی عالمی عدالت میں دونوں فاسٹ بولرز بچ سکتے ہیں کیونکہ جن حالات اور طریقۂ کار کے تحت ان کے ڈوپ ٹیسٹ ہوئے تھے ان میں جھول پایا گیا تھا۔
ڈاکٹر دانش ظہیر

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کہتے رہے ہیں کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا اندرونی معاملہ ہے جسے وہ اب ختم سمجھتے ہیں لیکن واڈا کی جانب سے اسے چیلنج کئے جانے کے بعد پی سی بی کے لیے نیا محاذ کھل گیا ہے اور اسے یقیناً اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کرنی ہوں گی۔

ڈوپنگ کے ماہر ڈاکٹر دانش ظہیر جنہوں نے جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے دونوں فاسٹ بولرز کے دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ کی تجویز پیش کی تھی کہتے ہیں کہ کھیلوں کی عالمی عدالت میں دونوں فاسٹ بولرز بچ سکتے ہیں کیونکہ جن حالات اور طریقۂ کار کے تحت ان کے ڈوپ ٹیسٹ ہوئے تھے ان میں جھول پایا گیا تھا۔

پاکستانی کرکٹ حلقوں میں اس معاملے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے دونوں فاسٹ بولرز کو بری کئے جانے کے فیصلے کو جگ ہنسائی سے تعبیر کیا تھا جبکہ سابق ٹیسٹ کرکٹر آصف اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے صحیح طریقے سے صورتحال سے نمٹ پایا ہے البتہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں ڈوپنگ کا اختیار کرکٹ بورڈز کو انفرادی طور پر ہونے کے بجائے کلّی طور پر صرف آئی سی سی کو ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد