’ڈوپنگ کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کے خیال میں فاسٹ بولر شعیب اختر اور محمد آصف کو ڈوپنگ کیس میں بری کیے جانے کے باوجود یہ معاملہ سرد نہیں ہوا ہے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ( واڈا) نے پاکستان کی ڈوپنگ اپیل کمیٹی کی جانب سے شعیب اختر اور محمد آصف کو بری کیے جانے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اسے کھیلوں کی ثالثی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رمیز راجہ جو اس وقت کمنٹری کے شعبے سے وابستہ ہیں کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے کو صحیح طریقے سے نہ نمٹتے ہوئے دو کمیٹیاں بناکر اسے متنازعہ بنادیا اور اب جبکہ واڈا نے بھی اسے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تلوار پاکستانی بولرز کے سر پر لٹکی ہوئی ہے۔ رمیز راجہ پہلے بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں بولرز کو جو سزا دی وہ بہت سخت اور غیرضروری تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں پاکستانی کرکٹ سکروٹنی کی زد میں آگئی اور بولرز پر بھی ساری زندگی یہ دھبہ لگا رہے گا۔ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کپتان انضمام الحق کے نزدیک ورلڈ کپ اولین ترجیح ہے اور وہ نہیں چاہیں گے کہ ورلڈ کپ کے موقع پر اس مسئلے میں الجھے رہیں۔ ’ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان دونوں بولرز کی ذہنی حالت کیسی ہے کیونکہ اس طرح کی صورتحال میں کھلاڑی جسمانی طور پر نہیں ذہنی طور پر بہت زیادہ ڈسٹرب ہوجاتا ہے دونوں کو اس کیفیت سے نکال کر کرکٹ کی طرف لانے کے لیے ڈریسنگ روم کا خوشگوار ماحول اہم کردار ادا کرے گا‘۔ | اسی بارے میں رمیزکا استعفی، شہریار کی جیت 09 August, 2004 | کھیل ’شعیب اختر نے جذبات مجروح کئے‘14 October, 2003 | کھیل شعیب اور آصف فیصلے سے خوش05 December, 2006 | کھیل شعیب اور آصف شامل نہیں 05 December, 2006 | کھیل شعیب اختر، محمد آصف بری05 December, 2006 | کھیل شعیب، آصف کی سماعت منگل کو12 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||