| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’شعیب اختر نے جذبات مجروح کئے‘
منگل کو لاہور کے ایک سول جج چودھری اعظم علی نے تیز بولر شعیب اختر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ اور سلیکشن کمیٹی کے سربراہ عامر سہیل کے اٹھائیس اکتوبر کو عدالت میں طلبی کے حکم نامے (سمن) جاری کردیے۔ گزشتہ روز ان تینوں کے خلاف لاہور کے ایک شہری عنصر محمود باجوہ نے شب برات کے موقع پر ایک فیشن شو میں شریک ہونے پر ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا تھا۔ مدعی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے مقدس دن کے موقع پر فیشن میں شریک ہوکر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے اس لیے وہ اسے پچیس ہزار روپے ہرجانہ ادا کریں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کرکٹ ٹیم کے دو کھلاڑی شعیب اختر اور شعیب ملک اتوار کے روز جنوبی افریقہ اور پاکستان کے مابین ایک روزہ میچ سے ایک رات پہلے اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے فیشن شو کی پارٹی میں شریک رہے جہاں خواتین کیٹ واک کررہی تھیں۔ ان کے ہمراہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین توقیر ضیاء کے سابق اسسٹنٹ راجہ جہانزیب اور چیف سلیکٹر عامر سہیل اور کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رمیض راجہ بھی تھے۔ یہ فیشن شو نصف شب کے بعد دیر تک جاری رہا جبکہ عام طور پر میچ سے پہلے اور درمیان کھلاڑیوں کو رات نو بجے کے بعد اپنے کمروں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس واقعہ کی خبریں اور تصاویر اگلے روز اخبارات میں شائع ہوئیں۔ پاکستان ٹیم اگلے روز ایک روزہ میچ سات وکٹوں سے ہار گئی تھی۔ پاکستان ٹیم کے منیجر ہارون رشید کا بیان آیا ہے کہ اگر یہ کھلاڑی فیشن شو میں گۓ بھی تھے تو رات کو جلد واپس آگۓ تھے اور یہ کہنا غلط ہے کہ وہ رات دیر سے واپس آئے تھے۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق کرکٹ بورڈ کے چیئرمین توقیر ضیاء نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ شعیب اختر پر اس سے پہلے بھی ایک دیوانی مقدمہ چل رہا ہے جس میں مدعی نے کہا تھا کہ انھوں نے برطانیہ کے ایک اخبار گارجین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ تیز بولر وقار یونس اور وسیم اکرم عظیم تو تھے لیکن میچ جیتنے والے بولر نہیں تھے، جس سے مدعی کے بقول قومی وقار کو نقصان پہنچا ہے۔ شعیب کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے قومی وقار کو نقصان ہو اور لوگ مشہور ہونے کے لیے ایسے مقدمے دائر کرتے ہیں۔ کرکٹ کے نامور کھلاڑیوں پر مقدمے دائر کرنے کا ایک سلسلہ سا چل پڑا ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے سابق کپتان وسیم اکرم پر ایک ٹیلی وژن پر شراب کے اشتہار میں کام کرنے کے الزام میں لاہور میں ایک دیوانی مقدمہ چل رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||