BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 December, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’واڈا سپلیمنٹس پر پابندی لگائے‘

شعیب اختر
شعیب اختر نے کہا وہ ماضی میں کئی بار فٹنس مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں
فاسٹ بولر شعیب اختر ممنوعہ ادویات کے استعمال کے الزام سے بری ہوجانے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لئے بے چین ہیں تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ جن فوڈ سپلیمنٹس کے استعمال کی وجہ سے وہ نشانہ بنے ان پر ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ( واڈا) کو پابندی لگا دینا چاہئے۔

شعیب اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ نینڈرلون ان فوڈ سپلیمنٹس میں شامل تھی جو انہوں نےاستعمال کیے۔ شعیب کا کہنا تھا کہ اب وہ بہت محتاط ہو گئے ہیں تاہم وہ واڈا سے اپیل کرتے ہیں کہ ادارہ مارکیٹ میں دستیاب ایسے سپلیمنٹس پر پابندی لگائے جن میں ممنوعہ عناصر موجود ہوتے ہیں۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ ڈاکٹر یا طبی ماہر نہیں اور وہ ماضی میں کئی بار فٹنس مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں اور کئی ایک دوائیں ان کے استعمال میں رہی ہیں۔ شعیب کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کوئی ڈاکٹر یا نیوٹریشن کے بارے میں آگاہی دینے والا کوئی نہیں رہا اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ماہر ٹیم میں ہونا چاہیے ۔ شعیب کے خیال میں نوجوان کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کے بارے میں تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔

شعیب اختر کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

شعیب اختر نے کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کےدورے کے لئے تیار ہیں۔ ’دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی پیس بیٹری کو دیکھ کر وہاں تیز وکٹیں بنائی جاتی ہیں یا نہیں؟‘

جنوبی افریقہ میں گراؤنڈز سخت ہونے کی وجہ سے شعیب اختر کوگھٹنےکی تکلیف کا خطرہ رہتا ہے۔

شعیب اختر نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے منتخب ہونے کی صورت میں وہ وہاں چار روزہ میچ کھیل کر ردھم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

راولپنڈی ایکسپریس کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ اسے بھول چکے ہیں اور مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ قوم اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل گھڑی میں ان کے لیے ہمدردانہ جذبات رکھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد