ڈوپنگ کیس کی سماعت کا جائزہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کھیلوں میں ثالثی کی عالمی عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کردیا ہے کہ وہ ایک آزاد پینل تشکیل دے رہی ہے جو اس بات کا جائزہ لے گا کہ ثالثی عدالت پاکستانی فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ کیس کی سماعت کی مجاز ہے یا نہیں؟ اگر پینل نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ کیس عالمی ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو پھر اس کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی۔ شعیب اختر اور محمد آصف گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرائے گئے ڈوپ ٹیسٹ کی مثبت رپورٹ کے بعد بالترتیب دو اور ایک سالہ پابندی کی سزا کی زد میں آئے تھے لیکن بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کے قائم کردہ اپیل ٹریبونل نے ان دونوں بولرز کی سزا ختم کردی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کو شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ کیس کی سماعت کا اختیار نہیں کیونکہ یہ اس کا اندرونی معاملہ تھا جسے اس نے اپنے قواعدوضوابط کے مطابق نمٹایا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے برخلاف بیرسٹر شاہد حامد جو شعیب اختر اور محمد آصف کو ممنوعہ ادویات استعمال کرنے پر پابندی کی سزا دینے والے کمیشن کے سربراہ تھے یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان واڈا کے قواعد و ضوابط کا پابند ہے۔ اس سلسلے میں وہ2003ء کے کوپن ہیگن معاہدے کی مثال دیتے ہیں جس پر حکومت پاکستان نے دستخط کر رکھے ہیں اور اس کی رو سے پاکستان واڈا کے قواعد و ضوابط کو تسلیم کرنے کا پابند ہے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی ( واڈا) نے شعیب اختر اور محمد آصف کی بریت کے فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کررکھا ہے تاہم اس کی سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوسکی ہے اور تازہ ترین پیش رفت کے مطابق عالمی ثالثی عدالت نے تین رکنی پینل تشکیل دے دیا ہے جو امریکہ کے اٹارنی ایٹ لاء ڈیوڈ لیوکن، انگلینڈ کے بیرسٹر پیٹر لیور اور فرانس کے اٹارنی ایٹ لاء ژان پالسن پر مشتمل ہے۔ | اسی بارے میں مثبت ڈوپ ٹیسٹ پر متبادل کی اجازت07 February, 2007 | کھیل ڈوپنگ کےطریقہ کار میں جھول تھا27 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ: پی سی بی کا محتاط انداز23 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ: واڈا نے اپیل دائر کردی22 December, 2006 | کھیل ’واڈا سپلیمنٹس پر پابندی لگائے‘17 December, 2006 | کھیل ڈوپنگ: واڈا کے مؤقف سے انکار16 December, 2006 | کھیل نسیم اشرف کا خط: کمیشن کی توہین11 December, 2006 | کھیل ’کرکٹ بورڈ نےاثرانداز ہونا چاہا‘09 December, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||