BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 December, 2006, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈوپنگ کےطریقہ کار میں جھول تھا

شعیب اور آصف
شعیب اختر اور آصف پر ممنوعہ ادویات لینے کا الزام ہے
ڈوپنگ کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کا ڈوپ ٹیسٹ جس طریقہ سے ہوا تھا اس میں خاصا جھول پایا جاتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ بیرسٹر شاہد حامد کی سربراہی میں قائم اینٹی ڈوپنگ کمیشن نے ان خامیوں پر توجہ ہی نہیں دی اور دونوں فاسٹ بالرز کو پابندی کی سزا سنا دی۔

ڈاکٹر دانش ظہیر برونائی میں مقیم ہیں اور ان دنوں پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ میں بین الاقوامی طریقہ کار کو نہیں اپنایا گیاتھا۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپیل ٹریبونل کے فیصلے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ان بالرز کی دوبارہ ڈوپ ٹیسٹ کی تجویز دی ہے۔

 واڈا کے قوانین میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ کھلاڑی کو خود کوبے قصور ظاہر کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے جو ممنوعہ دوا استعمال کی اس میں اس کا کوئی اختیار نہ تھا۔

ڈاکٹر دانش ظہیر کہتے ہیں کہ دواؤں کے استعمال کے معاملے میں کھلاڑی کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

واڈا کے قوانین میں یہ بات واضح طور پر موجود ہے کہ کھلاڑی کو خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے جو ممنوعہ دوا استعمال کی اس میں اس کا کوئی اختیار نہ تھا۔

دونوں فاسٹ بالرز کو بری کئے جانے کے فیصلے کو واڈا کی جانب سے چیلنج کرنے کے بارے میں ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ اپیل ٹریبونل میں انہوں نے جو اختلافی نوٹ لکھا ہے اگر اس سے مدد لی گئی تو دونوں بالرز کے بچنے کی امید ہے۔

لیکن اگر واڈا کی اپیل صرف پاکستانی اپیل ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف ہے تو دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کس حکمت عملی کے تحت کھیلوں کی عالمی کی ثالثی عدالت میں جاتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے اس دعوے کے بارے میں کہ ڈوپنگ کا یہ معاملہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے ڈاکٹر دانش ظہیر کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے میں واڈا کا اختیار نہیں ہوتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ واڈا کی اپیل کا جواب ہی نہیں دیتا۔ بین الاقوامی عدالت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے جانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ واڈا کے قوانین کی پابند ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد