BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آصف کے ویزے میں تاخیر

محمد آصف
آصف پر 2006ء میں بھی مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے ایک سال کی پابندی عائد کی گئی تھی جو بعد میں ختم کردی گئی تھی
پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف کو سوئس ویزا نہیں مل سکا جس کے بعد انہوں نے آئی پی ایل سے درخواست کی ہے کہ ان کے یورین کے بی سیمپل کے تجزیے کے لیے نئی تاریخ مقرر کی جائے۔

واضح رہے کہ محمد آصف کو چھ اگست کو سوئٹزرلینڈ کی لیبارٹری میں پیش ہونا تھا۔ اس سے قبل انہیں اٹھائیس جولائی کو بی سیمپل کےتجزیے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں موجود ہونے کے لیے کہا گیا تھا لیکن دونوں بار محمد آصف کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بروقت ویزا نہ ملنے کے سبب وہ ان تاریخوں میں پیش نہیں ہوسکتے۔

محمد آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے آئی پی ایل سے درخواست کی ہے کہ ویزا نہ ملنے کے سبب وہ چھ اگست کو بھی سوئٹزرلینڈ نہیں پہنچ سکتے لہذا بی سیمپل کے ٹیسٹ کی تاریخ آگے کر دی جائے۔

جواب کا انتظار
 سوئس سفارتخانے نے بتایا ہے کہ اتنی جلدی ویزا دیا جانا ممکن نہیں جس کے بعد بی سمپل کے ٹیسٹ کی تاریخ مزید آگے بڑھانے کے لیے آئی پی ایل سے درخواست کی گئی ہے اور اس کے جواب کا انتظار ہے
محمد آصف نے کہا کہ اے سیمپل کے ڈوپ ٹیسٹ کے ایک ماہ کے اندر بی سیمپل کا ڈوپ ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ انہیں امید ہے کہ ویزا ملنے کے بعد وہ جتنا جلد ممکن ہوا سوئٹزرلینڈ جاسکیں گے۔

محمد آصف کے وکیل شاہد کریم نے بی بی سی کو بتایا کہ سوئس سفارتخانے نے انہیں مطلع کیا ہے کہ اتنی جلدی ویزا دیا جانا ممکن نہیں جس کے بعد بی سمپل کے ٹیسٹ کی تاریخ مزید آگے بڑھانے کے لیے آئی پی ایل سے درخواست کی گئی ہے اور اس کے جواب کا انتظار ہے۔

آئی پی ایل کے دوران محمد آصف کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت پایا گیا تھا۔
ڈوپنگ کے قواعد وضوابط کے تحت کھلاڑی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ پہلا نتیجہ مثبت آنے کے بعد اسے چیلنج کرتے ہوئے بی سمپل کے تجزیئے کی درخواست کرسکتا ہے۔

دوسری جانب محمد آصف کو دبئی ائرپورٹ پر مبینہ طور پر مشکوک شے کی برآمدگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی تحقیقاتی رپورٹ کا بھی انتظار ہے۔

کرکٹ بورڈ کی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ تیار کرلی ہے جو پی سی بی کے چیئرمین کی وطن واپسی پر انہیں پیش کردی جائے گی۔

محمد آصف پر 2006ء میں بھی مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے ایک سال کی پابندی عائد کی گئی تھی جو بعد میں ختم کردی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد