لاسن غلط انتخاب تھے، سابق کپتان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتانوں کے خیال میں جیف لاسن کوچ کی حیثیت سے غلط انتخاب تھے اور اب جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے بھی ان پر عدم اعتماد ظاہر کردیا ہے انہیں خود ہی عہدہ چھوڑدینا چاہیے۔ سابق کپتان انتخاب عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جیف لاسن کی تقرری کو کرکٹرز کی خواہشات کا نتیجہ قراردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے لاسن کی تقرری میں کرکٹرز کی خواہشات کو مدنظر رکھا تھا تب ہی یہ مسئلہ پیدا ہوا۔ اگر کرکٹ بورڈ مضبوط ہوتا تو وہ اپنی سوچ سمجھ کے مطابق فیصلہ کرتا اور آج ہم یہ صورتحال نہ بھگت رہے ہوتے۔ انتخاب عالم نے کہا کہ کرکٹرز کا کام کرکٹ کھیلنا ہے جس کا وہ معاوضہ لیتے ہیں انہیں بورڈ کے انتظامی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔اگر بورڈ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ اس میں کیوں دخل اندازی کریں۔ انتخاب عالم نے کہا کہ جیف لاسن کو آج جس صورتحال کا سامنا ہے انہیں اپنی مدت پوری کرنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔
سابق کپتان جاوید میانداد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیرملکی کوچ کی تقرری کے ہمیشہ سے خلاف تھے لیکن اگر غیرملکی کوچ ہی لینا تھا تو ڈیوواٹمور بہتر تھے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم صرف کوچ کی مدد سے ہی جیت سکتی ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کوچ صرف بتاسکتا ہے۔ میدان میں کارکردگی کرکٹرز کو دکھانی ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ جس بولر سے پانچ وکٹوں کی توقع ہوتی ہے وہ کچھ نہیں کر پا رہا اور جنہیں رنز کرنے چاہیں وہ تیس چالیس کی اننگز کھیل کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض پورا کردیا۔ سابق کپتان عامر سہیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوچ کی حیثیت سے لاسن کا انتخاب غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب کپتانی شعیب ملک جیسے نوجوان کو دی گئی، جس کی اس وقت ٹیسٹ ٹیم میں بھی جگہ نہیں بنتی تھی تو پھر کوچ کسی تجربہ کار شخص کو بنایا جانا چاہیے تھا۔ جسے کرکٹ کی بہت زیادہ سمجھ ہوتی جو پاکستانی کرکٹ کی سیاست کو بھی سمجھتا ہوتا اور ایسی پلاننگ کرسکتا کہ فیلڈ میں شعیب ملک پر دباؤ نہ پڑتا اور وہ کپتان کی حیثیت سے گروم ہوتے لیکن چونکہ لاسن بھی پہلی بار کوچ بن رہے تھے لہذا کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ وہ کس طرح کے کوچ ہونگے اور کس طرح دباؤ برداشت کرسکیں گے اور یہی بورڈ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
عامر سہیل سے جب پوچھا گیا کہ پی سی بی کے چیئرمین کی جانب سے عدم اعتماد کے بعد لاسن اپنی باقی مدت میں کیا دلچسپی سے کام کرسکیں گے تو ان کا جواب تھا انہیں عدم دلچسپی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ پروفیشنل ہیں اور انہیں زیادہ محنت کرکے اچھے نتائج دینے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ واضح رہے کہ جیف لاسن کو اگلے سال اگست تک اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ اس دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کو نومبر میں ابوظہبی میں ویسٹ انڈیز کےخلاف ون ڈے سیریز۔ آئندہ سال جنوری میں بھارت کے خلاف ہوم سیریز۔ جون میں انگلینڈ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور جولائی میں سری لنکا میں سیریز کھیلنی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگران اہم میچوں میں پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کس جواز کے تحت لاسن کو فارغ کرے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ڈیو واٹمور اور رچرڈ ڈن پر جیف لاسن کو فوقیت دیتے ہوئے انہیں دوسال کے لیے کوچ مقرر کیا تھا تاہم اس عرصے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ زیادہ کھیلنے کو نہیں ملی اور وہ زیادہ تر ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں مصروف رہی ہے۔ |
اسی بارے میں لاسن کو سکیورٹی کی یقین دہانی 16 July, 2007 | کھیل لاسن کے ایکشن کی شکایت 18 July, 2005 | کھیل کوچ: جیف لاسن بھی امیدواروں میں05 June, 2007 | کھیل جیف لاسن:پاکستان جانے کی تیاری16 June, 2007 | کھیل کرکٹ کوچ، لاسن بھی امیدوار19 June, 2007 | کھیل پاکستان کوچ: واٹمور یا لاسن 30 June, 2007 | کھیل جیف لاسن کے کئی چیلنج16 July, 2007 | کھیل جیف لاسن پاکستان ٹیم کے نئے کوچ16 July, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||