پاکستان کوچ: واٹمور یا لاسن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ اس تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ملک کی قومی ٹیم کا اگلا کوچ کون ہو گا۔ کرکٹ ٹیم کے کوچ کا عہدہ باپ وولمر کی موت کے بعد سے خالی ہے۔ اس سلسلے میں تین لوگوں کو انٹرویو کیا گیاہے لیکن اب ڈیو واٹمور اور جیف لاسن میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ کچھ کھلاڑی بنگلہ دیش اور سری لنکا کے سابق کوچ واٹمور کے حق میں ہیں۔جبکہ نوجوان کھلاڑی آسٹریلیا کےسابق پیس بالر لاسن کے حق میں ہیں۔ ورلڈ کپ کے بعد ایسا اختلافِ رائے پہلی متربہ نہیں ہوا۔جب شعیب ملک کو انضمام الحق کی جگہ کپتان بنایا گیا تھا تو کچھ سینیئر کھلاڑیوں نے کسی سینئیر کو نائب کپتان بنانے کی بات کہی تھی۔ لیکن سلمان بٹ جیسے نوجوان کھلاڑی کو یہ عہدہ دیا گیا۔ اگر کوچ کے انتخاب کی بات کی جائے تو لاسن کے پاس بین الااقوامی سطح پر تجربے کی کمی ہے اور یہ بات ان کے خلاف جا سکتی ہے۔انضمام پہلے ہی واٹمور کے حق میں بات کر چکے ہیں۔ انضمام کا کہنا ہے کہ واٹمور ٹیم کے لیے بہتر ثابت ہوں گے۔ ایک اور سابق کپتان وسیم اکرم کا خیال ہے کہ واٹمور برصغیر کے کلچر سے واقف ہیں اور ماضی کے ان کےتجربے کی وجہ سے ان کے لیے یہ کام نیا نہیں ہوگا۔پی سی بی چاہتا ہے کہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے ساتھ سیریز سے قبل کوچ کی تقرری کا مرحلہ پورا ہو جائے گا اس کے علاوہ اکتوبر اور مارچ 2008 میں ٹیم کوبھارت کا دورہ بھی کرنا ہے۔ امکان ہے کہ یہ مسئلہ سولہ جولائی کو ایڈہاک کمیٹی کی میٹنگ میں طے ہوگا۔ دریں اثناء سابق کپتان عمران خان نے کہا ہے کہ میڈیا اور کرکٹ شائقین کوچ پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشائی ٹیموں کی کوچنگ بہت مشکل اور محنت کا کام ہے اور اس میں ذہنی تناؤ بھی بہت ہے اوریہی باب وولمر کی موت کی وجوہات میں سے ایک ہے ۔ | اسی بارے میں کرکٹ ٹیم کے کوچ کے لیے انٹرویو17 June, 2007 | کھیل کرکٹ کوچ، لاسن بھی امیدوار19 June, 2007 | کھیل پاکستان کی کوچنگ چیلنج: واٹمور21 June, 2007 | کھیل غیرملکی کوچ پراختلافات برقرار23 June, 2007 | کھیل جیف لاسن:پاکستان جانے کی تیاری16 June, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||