پاکستان کی کوچنگ چیلنج: واٹمور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے کوچ ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ کرنا ان کے لیے ایک چیلنج ہے اور انہیں چیلنجز سے نبرد آزما ہونا پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ کے لیے خواہشمند ہیں۔ ڈیو واٹمور جمعرات کی صبح قذافی سٹیڈیم میں کوچز کا انٹرویو کرنے والی تین رکنی کمیٹی سے ملے۔ ذاکر خان، مدثر نذر اور امتیاز احمد پر مشتمل یہ کمیٹی اپنی سفارشات پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کو دے گی۔ انٹرویو کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈیو واٹمور نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم اور بنگلہ دیش کی ٹیم میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہر ٹیم کی اپنی ذمہ داریاں اور ترجیحات ہوتی ہیں اور پاکستان کی ٹیم رینکنگ میں بنگلہ دیش کی ٹیم سے کافی اوپر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کی کوچنگ کرنے سے وہ مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کی کوچنگ کرنا ان کے لیے بہتر تجربہ ہے۔ عالمی کپ 2007 میں بھارت کو پول میچز میں ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کے سابق کوچ واٹمور نے کہا کہ عالمی کپ میں پاکستان کی کارکردگی ماضی کا حصہ ہے لیکن اگر کوئی ٹیم ایسی غلطیوں سے سیکھتی ہے تو یہ اس کے لیے اہمیت رکھتی ہے اور ہم ایسا نہیں چاہتے کہ کوئی ٹیم ایسی غلطیوں سے نہ سیکھے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی سے ان کی ملاقات کافی تعمیری رہی اور وہ مطمئن ہیں۔ واٹمور نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم بین الاقوامی سطح پر ایک اچھی ٹیم سمجھی جاتی ہے اس کی کوچنگ کرنا بھی ان کے لیے ایک اعزاز ہو گا اور اگر آج کی میٹنگ کے بعد انہیں ہی ذمہ داری ملی تو وہ بہت خوش ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ ایک پیشہ ور کوچ ہیں اس لیے پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ کرنا ان کے لیے ایک اچھا موقع ہے اور یہ ان کے کیریئر کے لیے کافی اہم ہو گا۔
لاہور میں کوچنگ کمیٹی سے ملاقات کے بعد واٹمور پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف سے ملاقات کریں گے اور پھر ایبٹ اباد میں کیمپ میں تربیت کرنے والی پاکستان کی ٹیم سے ملیں گے۔ واٹمور جمعے کو آسٹریلیا روانہ ہو جائیں گے۔ سابق بنگلہ دیشی کوچ تیسرے امید وار ہیں جنہوں نے پی سی بی کے سلیکشن پینل کو کوچ کی اسامی کے لیے انٹرویو دیا ہے۔ ان سے پہلے ان کے ہم وطن رچرڈ ڈن اور جیف لاسن انٹرویو دے کر واپس جا چکے ہیں۔ پی سی بی نے کوچ کے فیصلے کے لیے پہلے یکم جولائی کی تاریخ دی تھی لیکن اب یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پی سی بی کے ڈائریکٹر ذاکر خان کے مطابق اس کی وجہ پی سی بی کے چیئرمین کا آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کچھ دنوں کے لیے ملک سے باہر جانا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||