لاسن کو سکیورٹی کی یقین دہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جیف لاسن کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کرتے وقت انہیں سکیورٹی کی ہر ممکن یقین دہانی کرائی ہے۔ جیف لاسن انٹرویو دینے کے لیے جب گزشتہ ماہ پاکستان آئے تھے تو انہوں نے سکیورٹی کے سلسلے میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے استفسار کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے لاسن کو کوچ بنائے جانے کا اعلان کرتے وقت تسلیم کیا کہ باب وولمر کی موت کے بعد شکوک وشبہات پر مبنی عجیب سی فضا پیدا ہوگئی تھی اور ڈیو واٹمور سمیت ہر شخص اسے اپنی سلامتی کا معاملہ سمجھتے ہوئے بے یقینی کا شکار تھا۔ وولمر کی موت قدرتی قرار دیے جانے کے نتیجے میں یہ بے یقینی ختم ہوئی ہے۔
ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ جیف لاسن کو کوچ بنائے جانے کی اطلاع دیتے وقت یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہیں پاکستان آ کر اپنی ذمہ داری شروع کرنے میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہونی چاہئے اور پاکستان اتنا ہی محفوظ ہے جتنا سڈنی جہاں آپ بیٹھے ہیں۔ لاسن نے بھی اس یقین دہانی پر مکمل اطمینان ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ وہ اس ملک کا نام نہیں لینا چاہتے جہاں گزشتہ سال بم دھماکے ہو رہے تھے اور اہم ٹیمیں وہاں کھیل رہی تھیں۔ پاکستان کرکٹ کے لیے اتنا ہی محفوظ ملک ہے جتنا کوئی اور ملک۔ جیف لاسن کے انتخاب کے بارے میں ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ یہ تقرری ایک شفاف عمل کے ذریعے ہوئی ہے انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ رانا تنگا کی واٹمور کے بارے میں منفی رائے انہیں کوچ نہ بنائے جانے کے فیصلے پر اثراثداز ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کوچ بناتے وقت ہر امیدوار کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لیا گیا۔ اس سوال پر کہ لاسن بولنگ کوچ ہیں جبکہ پاکستانی ٹیم کا مسئلہ بیٹنگ ہے؟ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ اگر کسی بیٹسمین کو کوچ بنایا جاتا تو اسوقت بھی ہمیں بولنگ اور فیلڈنگ کوچز رکھنے پڑتے۔ لاسن کی تقرری کے بعد یقینی طور پر فیلڈنگ اور بیٹنگ کوچز رکھے جائیں گے اور فزیکل فٹنس کے لیے مستند ٹرینر بھی رکھا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹیم سلیکشن میں جیف لاسن کی رائے شامل ہوا کرے گی۔ جیف لاسن کی تقرری دوسال کے لیے ہوئی ہے معاہدے میں توسیع ان کی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک ایسا کوچ چاہئے جو ٹیم کو2011 ورلڈ کپ تک لے کر جائے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ تیس سے زائد کوچز نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی درخواستیں دی تھیں جن میں سے ابتدائی طور پر سولہ شارٹ لسٹ کیے گئے اور ان میں سے فیصلہ کن مرحلے کے لیے رچرڈ ڈن، ڈیو واٹمور اور جیف لاسن منتخب کیے گئے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ جیف لاسن کو اس کے باوجود کہ انہوں نے کوچ کے لیے درخواست نہیں دی تھی کیوں ترجیح دی گئی ڈاکٹر نسیم اشرف نے جواب دیا کہ جیف لاسن نے کوچ کے لیے درخواست دی تھی۔ | اسی بارے میں نئے کوچ کا متوقع اعلان پیر کو13 July, 2007 | کھیل سولہ جولائی کو نئے کوچ کا اعلان11 July, 2007 | کھیل پاکستان کوچ: واٹمور یا لاسن 30 June, 2007 | کھیل پاکستان کی کوچنگ چیلنج: واٹمور21 June, 2007 | کھیل واٹمور کا انٹرویو جمعرات کو20 June, 2007 | کھیل کرکٹ کوچ، لاسن بھی امیدوار19 June, 2007 | کھیل کرکٹ ٹیم کے کوچ کے لیے انٹرویو17 June, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||