نئے کوچ کا متوقع اعلان پیر کو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ پیر کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے غیرملکی کوچ کا اعلان کرنے والا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ تین آسٹریلوی کوچز رچرڈ ڈن، ڈیو واٹمور اور جیف لاسن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا ہے۔ان تینوں امیدواروں نے پاکستان آ کر کرکٹ بورڈ کو انٹرویوز دینے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ٹیم کےکھلاڑیوں سے بھی ملاقات کی تھی۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ نئے کوچ کے انتخاب پر کھلاڑیوں کی رائے اثر انداز ہو سکتی ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ منیجر اور کوچ کی حیثیت سے طویل عرصہ گزارنے والے انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ کوچ کی تقرری کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے اور یہ فیصلہ کرکٹرز کی خواہشات کے تابع نہیں ہونا چاہئے۔ انتخاب عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رچرڈ پائی بس بھی کھلاڑیوں کے کہنے پر کوچ بنائے گئے تھے لیکن جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ اسی طرح باب وولمر کو کوچ بنائے جانے میں بھی کچھ کرکٹرز کی خواہش کارفرما تھی اور یہ تجربہ انتخاب عالم کے الفاظ میں ناکام رہا۔ انتخاب عالم کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو غیرملکی کوچ کی ضرورت نہیں کیونکہ جو بھی کوچ باہر سے آئے گا اس کا اچھا خاصا وقت پاکستانی ماحول سے ہم آہنگ ہونے اور پاکستانی کرکٹرز کو سمجھنے میں ہی گزرجائے گا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان معین خان یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کوچ کی تقرری کے سلسلے میں کرکٹرز سے ان کی رائے معلوم کرکے پلیئرز پاور کو فروغ دے رہا ہے۔ معین خان نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کھلاڑی کس کوچ کے ساتھ آسانی محسوس کرتے ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایک مرتبہ کوچ کی تقرری کردی جائے تو پھر پیشہ ورانہ تقاضا یہ ہے کہ کرکٹرز اس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ معین خان کے مطابق حالیہ ورلڈ کپ میں غیرملکی کوچ کا مایوس کن تجربہ دیکھنے کے بعد یہ غلطی پھر دہرائی جارہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیر ضیا کی رائے بھی معین خان سے مختلف نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بورڈ پہلے ہی تین کوچز کو شارٹ لسٹ کرچکا ہے۔ اگر اس ضمن میں کھلاڑی کسی کوچ کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ توقیرضیا بھی غیرملکی کوچ کے بجائے پاکستانی کوچ کو ٹیم کے ساتھ دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور اس ضمن میں وہ جاوید میانداد کا نام تجویز کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جاوید میانداد آپ کے دور میں دو مرتبہ کوچ بنے لیکن دونوں تجربات تلخیوں پر منتج ہوئے تو کیا انہیں دوبارہ کوچ بنانے سے کرکٹرز کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا نہیں ہونگے تو توقیرضیا نے کہا کہ جب میانداد کوچ تھے تو تمام کرکٹرز ان کے ساتھ کھیلے ہوئے تھے جس کی وجہ سے اختلافات سامنے آئے لیکن اسوقت تمام کرکٹرز جونیئرز ہیں لہذا اب اس طرح کا مسئلہ پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل توقیر ضیا سے قبل سابق کپتان عامر سہیل بھی جاوید میانداد کے حق میں بیان دے چکے ہیں کہ انہیں کوچ ہونا چاہئے۔ البتہ سابق ٹیسٹمین اعجاز احمد ڈیو واٹمور کو پاکستان کی ٹیم کا کوچ بنانے کے حق میں ہیں۔ ورلڈ کپ1999 سے ورلڈ کپ 2007 تک تقریباً سات سال کے عرصے میں پاکستانی ٹیم سات کوچز مشتاق محمد، وسیم راجہ، رچرڈ پائی بس، مدثر نذر، انتخاب عالم، جاوید میانداد اور باب وولمر کو دیکھ چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||