BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسیم اشرف: کرکٹر کی تنقید کا جواب

چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف
کوچ کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کا جاری کردہ اشتہار
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے سابق کرکٹرز کی جانب سے قومی ٹیم کے کوچ کی تقرری کے لیے پی سی بی کے اشتہار دینے کے عمل پر تنقید کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

پاکستان کے چند سابق کرکٹرز نے کوچ کے لیے دیے گئے اشتہار پر تنقید کی تھی اور اس ضمن میں ان کرکٹرز کے بیانات ذرائع ابلاغ کی زینت بنے۔

پیر کو پریس کانفرنس میں پی سی بی کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ ان سابق کرکٹرز کے اس سلسلے میں دیے گئے بیانات پڑھ انہیں ہنسی آئی اور وہ حیران ہوئے کہ انہوں نے اشتہار دینے پر کیوں اعتراض کیا۔

چئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف تھا کہ انہوں نے یہ اشتہار اس لیے دیا کہ ہر آدمی کو برابر کا موقع ملے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان کی ٹیم کی جدید بنیادوں پر دوبارہ بنایا جا رہا ہے اسی طرح کوچ بھی نئی سوچ کا حامل ہو گا اور تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ کمپیوٹر کا علم رکھتا ہو اور ہر ایک کو حق ہے کہ اس کے لیے درخواست دے اب جو لوگ خود کو اس سے بالا سمجھتے ہیں تو ان پر میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔

جاوید میانداد
کرکٹ بورڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے کرکٹ کو اپنا ذاتی بزنس سمجھ رکھا ہے: جاوید میانداد
پی سی بی کے چئرمین سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کی ٹیم کے پاس ایسا کوچ تو پہلے بھی تھا جو کمپیوٹر کا علم اور جدید تکنیک سے آگاہ تھا تو پھر پاکستان کی ٹیم عالمی کپ سے پہلے راؤنڈ سے ہی باہر کیوں ہو گئی تو ان کا جواب تھا کہ کوچ کا اس سطح پر بنیادی کام کھیل کی حکمت عملی بنانا گیم پلان تیار کرنا مخالف ٹیم کی طاقت کا اندازہ لگانا اور کچھ بنیادی غلطیوں کو ٹھیک کرنا ہے لیکن وہ کھلاڑیوں کو بیٹ اور بال پکڑنا نہیں سکھا سکتا کیونکہ یہ اس سطح پر سکھانے والی بات نہیں بلکہ انڈر 19 اور انڈر 15کی سطح پر سکھائی جاتی ہے۔

چئرمین پی سی بی کے مطابق وہ دنیا کا بہترین کوچ ڈھونڈ رہے ہیں جس کی سوچ ہماری نئی ٹیم سے ہم آہنگ ہو۔

پی سی بی کے چئرمین سے پوچھا گیا کہ اشتہار دیے ہوئے کافی روز گزر گئے کیا کسی معروف کوچ یا کرکٹر نے درخواست دی تو پی سی بی کے چئرمین کوئی نام نہ بتا سکے۔

پاکستان کے دو سابق کپتان اور کوچز انتخاب عالم اور جاوید میاں داد کوچ کی تلاش کے لیے پی سی بی کے طریقہ کار سے نالاں ہیں۔

1992 کا عالمی کپ کو جیتنے والی پاکستان کی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ ’اب وہ کرکٹ بورڈ کو یہ بتائیں کہ ان میں کیا خوبیاں ہیں اور پھر اس کا فیصلہ وہ لوگ کریں گے جنہیں خود کرکٹ کی الف بے نہیں معلوم‘۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا کرکٹ بورڈ بھی آج کل کوچ کی تلاش میں ہے انہوں نے سابق کرکٹرز پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جنہیں کرکٹ کا علم اور تجربہ ہے جبکہ پی سی بی نے ایسا اشتہار دے کر ایک مزاق کیا ہے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں
 ’اب وہ کرکٹ بورڈ کو یہ بتائیں کہ ان میں کیا خوبیاں ہیں اور پھر اس کا فیصلہ وہ لوگ کریں گے جنہیں خود کرکٹ کی الف بے نہیں معلوم

باب وولمر سے پہلے پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ جاوید میاں داد کے پاس تھی وہ بھی کرکٹ بورڈ کے اس طریقہ کار پر بہت سیخ پا ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں درخواست دینے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ دیگر عظیم کرکٹرز بھی اس میں دلچسپی نہیں رکھتے ہوں گے۔

انہوں نے کرکٹ بورڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے کرکٹ کو اپنا ذاتی بزنس سمجھ رکھا ہے۔

جاوید میاں داد کا کہنا تھا صرف کوچ ہی کے لیے اشتہار کیوں پی سی بی کے چئرمین کے لیے بھی اشتہار دینا چاہیے۔

کوچ کو کمپیوٹر کا استعمال آنا چاہیے اس شرط کو جاوید میاں داد نے انتہائی مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ کرکٹ میدان کا کھیل ہے اور میدان میں ہی سکھائی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ جن کوچز نے صرف فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہو اور کمپیوٹر جانتے ہوں وہ قومی ٹیم کی کیا تربیت کریں گے۔

جاوید میاں داد کے بقول ان ہی غیر پیشہ وارانہ رویوں کے سبب پاکستان کی ٹیم کی یہ حالت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
بغیر کوچ کے تربیت
17 April, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد