BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 July, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیف لاسن پاکستان ٹیم کے نئے کوچ

جیف لاسن
لاسن صرف نیو ساؤتھ ویلز کی ٹیم کی کوچنگ کا تجربہ رکھتے ہیں
سابق آسٹریلوی کرکٹر جیف لاسن کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نیا کوچ مقرر کیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پیر کو کیا تاہم ان کی پریس کانفرنس سے بہت پہلے جیف لاسن سڈنی کے مقامی ریڈیو پر کوچ بنائے جانے کی نوید سنا چکے تھے۔


لاسن نے ٹی وی اور ریڈیو چینلز کو بتایا تھا کہ پی سی بی نے انہیں آنجہانی باب وولمر کا جانشین منتخب کر لیا ہے اور اس تقرری کی اطلاع انہیں اتوار کو بذریعہ فون ملی تھی۔

انچاس سالہ لاسن نے اس امر کا بھی اعتراف کیا تھا کہ اگر باب وولمر کی ہلاکت کے بارے میں صورتحال واضح نہ ہوتی تو وہ کبھی یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔

اس سے قبل اتوار کو پی سی بی نے ایک اور آسٹریلوی امیدوار رچرڈ ڈن کے کوچ کے عہدے کی دوڑ سے باہر ہونے کا اعلان کیا تھا اور بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ’اب ہم لاسن یا واٹمور میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے‘۔

جیف لاسن سنہ 1999 ورلڈ کپ سے اب تک پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالنے والے آٹھویں شخص ہیں۔ ان سے قبل مشتاق محمد، وسیم راجہ، رچرڈ پائی بس، انتخاب عالم، جاوید میانداد، مدثر نذر اور باب وولمر کوچنگ کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔

46 ٹیسٹ اور79 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے جیف لاسن کوچنگ کا کوئی بین الاقوامی تجربہ نہیں رکھتے ان کا واحد تجربہ نیو ساؤتھ ویلز ٹیم کے ساتھ وابستگی ہے۔ بظاہر دوستانہ اور بے تکلفانہ انداز رکھنے والے جیف لاسن آسٹریلوی کرکٹ کی روایتی جارحانہ حکمت عملی پر یقین رکھتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق تجربہ کار ڈیو واٹمور پر لاسن کو فوقیت دینا پی سی بی کے لیے ایک جوئے سے کم نہیں۔ تاہم لاسن کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم میں بہترین ٹیلنٹ موجود ہے اور انہیں صرف اس صحیح رویے کی ضرورت ہے جس کے تحت وہ بہت نتائج دکھا سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مہارت میں بہتری کا معاملہ نہیں بلکہ ذہنی طور پر مضبوط بننے کی بات ہے۔ پاکستانی ٹیم کی غیر مستقل مزاجی کا بڑا تعلق ہر میچ کو آخری میچ نہ سمجھ کر کھیلنے سے ہے اور یہی سب سے بڑا چیلنج ہے‘۔

امید کی جا رہی ہے کہ لاسن آئندہ ماہ پاکستان پہنچیں گے اور جنوبی افریقہ میں ہونے والے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کو تیاری میں مدد دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد