BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 October, 2008, 19:02 GMT 00:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لاسن کی کارکردگی سےمطمئن نہیں‘

اعجاز بٹ جیف لاسن کے کام سے خوش نہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چئرمین اعجاز بٹ نے کہا ہے کہ وہ ٹیم کے کوچ جیف لاسن کی کارکردگی سےمطمئن نہیں اور انڈین کرکٹ لیگ میں کھیلنے والے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں موقع دینے کے حق میں ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پی سی بی کے نئے چئرمین کی پہلی با ضابطہ پریس کانفرنس ہنگامہ خیز رہی ۔انہوں نے بہت کھلے انداز میں گزشتہ چئرمین کے دور کے معاملات پر تنقید کی۔

کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے متنازعہ کرکٹ لیگ آئی سی ایل کی بابت کہا کہ وہ آئی سی ایل میں کھیلنے والے پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں کھلانا چاھیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے وکلاء نے آئی سی سی کو صلاح دی ہے کہ آئی سی ایل والے ان پر مقدمہ دائر کر سکتے ہیں اور ان کا مقدمہ کافی مضبوط ہے۔ اسی لیے آئی سی سی نے اس معاملے کو نمٹانے کے لیے انڈین کرکٹ بورڈ کو چند دن ک وقت دیا ہے۔

پاکستان کی ٹیم کے غیر ملکی کوچ جیف لاسن کے مستقبل کی بابت اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ وہ وہ لاسن کو اچھا کوچ نہیں مانتے لیکن انہیں معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے نکالنے کا بہت مالی نقصان ہوگا۔

شعیب ملک کی کپتانی پر ان کا کہنا ہے کہ وہ 31 دسمبر تک کے لیے کپتان بنائے گئے ہیں اور اس کے بعد ہی ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے دور میں بہت بےضابطگیاں ہوئیں اور بے دریغ پیسہ خرچ کیا گیا۔

اعجاز بٹ کے بقول گزشتہ انتظامیہ ویسٹ انڈیز اور دیگر ٹیموں کو بلانے کے جو دعوے کرتی رہی وہ محض زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

نئے چئرمین نے کہا کہ وہ بہت جلد ان تمام افراد کو کرکٹ بورڈ سے فارغ کر دیں گے جبکہ وہ ڈاریکٹر ہیومن ریسورس ندیم اکرم کو پہلے ہی فارغ کیا جاچکا ہے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کو پیسے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے انہیں سن دو ہزار دس گیارہ میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ اور ون ڈے کی سیریز کروانے کی پیشکش کی ہے جس سے پی سی بی کو کافی مالی فائدہ ہو گا۔

اعجاز بٹ نے بتایا کہ حال ہی میں دبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ چمپئنز ٹرافی کے لیے اب نئی بولی دی جائے گی جس پر انہوں نے مزاحمت کی اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ زمبابوے کرکٹ بورڈ نے اور پھر ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ اور انڈین کرکٹ بورڈ نے ان کی حمایت کی۔

اعجاز بٹ کے بقول انہیں اس بات پر حیرانی ہے کہ بنگلا دیش اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈز نے ان کی مدد نہیں کی۔انہوں نے ایسا کیوں کیا وہ اس کی وجہ نہیں جانتے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ وہ مختلف سرکاری اداروں سے آئے پانچ سو کے قریب ملازمین کو واپس ان کے اداروں میں بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے آغاز میں بھارت کی ٹیم کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر کا رویہ کافی حوصلہ افزا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد