چمپیئنز ٹرافی، میچ ایک ہی شہر میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس سال سکیورٹی وجوہات کی بناء پر 2009 تک ملتوی ہونے والے چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ اب پچیس ستمبر سے پانچ اکتوبر تک پاکستان میں ہی کھیلا جائے گا۔ ان نئی تاریخوں کا فیصلہ دبئی میں ہونے والے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بورڈ میٹنگ کے دوسرے روز کیا گیا۔ اس ٹورنامنٹ کا پہلے دورانیہ سترہ دن تھا لیکن نئے تاریخوں کے مطابق اب یہ ٹورنامنٹ گیارہ دنوں میں ہی نمٹا دیا جائے گا اور اس کے تمام میچز ایک ہی شہر میں ہوں گے۔ آئی سی سی بورڈ اس کے لیے شہر کا انتخاب سنہ 2009 کے آغاز میں پاکستان میں ہونے والی سیریز کے بعد کرے گا۔ اسی سیریز میں سکیورٹی کے لیے پاکستان کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا اور اسی بناء پر شرکت کرنے والی ٹیموں، براڈ کاسٹرز اور دیگر کمرشل پارٹنرز کو مطمئین کیا جا سکے گا۔ یہ ٹورنامنٹ اس سال ستمبر میں ہونا تھا لیکن کرکٹ کھیلنے والے ممالک جن میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے پاکستان میں سکیورٹی کے حالات کے سبب آنے سے انکار کر دیا تھا۔ آئی سی سی کے صدر ڈیوڈ مورگن نے اگلے سال کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے مصروف پروگرام کے باوجود چمپیئنز ٹرافی کے لیے وقت مل جانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ڈیوڈ مورگن کا کہنا تھا کہ اگلے سال کے مصروف فیوچر ٹور پروگرام کے باوجود چمپیئنز ٹرافی کے لیے وقت مل جانا بہت خوش آئند ہے اور ہم اگلے سال ستمبر اکتوبر میں ایک زبردست اور یادگار ٹورنامنٹ کا انتظار کریں گے۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے میٹنگ میں شریک کرکٹ کھیلنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کرکٹ بورڈز کے ممبران کے رویے سے بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور ہم ایک دوسرے کی مدد سے چمپیئنز ٹرافی کے انعقاد کے لیے اگلے سال میں وقت نکال سکیں ہیں۔ ہارون لورگاٹ نے کہا کہ اب یہ ٹورنامنٹ نئے فورمیٹ کے ساتھ کھیلا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حال ہی میں چئرمین کی ذمہ داری سنبھالنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ بھی دبئی میں ہونے والے اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اعجاز بٹ نے اس اجلاس میں شرکت کے لیے جانے سے پہلے کہا تھا کہ اس اجلاس میں ان کی بھر پور کوشش ہو گی کہ وہ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو پاکستان آنے کے لیے آمادہ کریں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی خواہش اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششیں ایک طرف لیکن آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں کے پاکستان میں دورے اورچمپیئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کا پاکستان میں انعقاد تب ہی ممکن ہے اگر یہاں سکیورٹی کے حالات بہتر ہوں جو کے گزستہ کچھ عرصے سے مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا امکان25 July, 2008 | کھیل پاکستان کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان16 July, 2008 | کھیل ’چیمپیئنز ٹرافی کے انعقاد پر خوشی‘17 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||