چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کو ہی میزبان برقرار رکھا ہے لیکن ان کے اس فیصلے کے بعد کرکٹ کھیلنے والے غیر ایشیائی ممالک کے کرکٹرز کی ایسوسی ایشنز کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی طرف سے اس کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے لیے وہ اپنی حفاظت کو کسی صورت داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ آسٹریلوی کرکٹروں کی تنظیم آسٹریلیا کرکٹرز ایسوسی ایشن کے پال مارش نے کہا ہے کہ پاکستان میں خطرات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کو وہاں جا کر کھیلنے کی سفارش نہیں کریں گے۔ ’ہمیں امید ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا بھی یہی پوزیشن اختیار کرے گی۔‘ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ایک مبینہ بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد سے پاکستان میں سکیورٹی کے بارے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسی سال کے آغاز میں آسٹریلیا نے اپنی ٹیم کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ کھلاڑی پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے خوش نہیں تھے۔ آسٹریلیا کے آل راؤنڈر اینڈریو سِمنڈ کے مطابق پاکستان میں سکیورٹی کے بارے میں ان کے خیالات تبدیل نہیں ہوئے۔ ’پاکستان میں سکیورٹی صورتِ حال کے بارے میں میرے خیالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔‘ نیوزی لینڈ کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ہیتھ ملز کے خیالات بھی ایسے ہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے فیصلے کے باوجود وہ اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان جانے کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ جنوبی افریقہ کی کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ٹونی آئرش نے بھی آئی سی سی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال میں تمام کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم بھیجنے کے پابند ہوں گے لیکن اگر ان کے ٹاپ کھلاڑی پاکستان جانے سے انکار کریں گے تو انہیں اس اتنے اہم ٹورنامنٹ میں اپنی بی ٹیم بھیجنی پڑے گی جس سے اس ٹورنامنٹ کی دلچسپی کرکٹ شائقین میں کم ہو جائے گی بلکہ اس ٹورنامنٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے کم ہونے کے امکانات بھی ہوں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ آئی سی سی کے پاکستان میں چمپیئنز ٹرافی کے فیصلے کو برقرار رکھنے میں انڈین کرکٹ بورڈ کا بھی کافی ہاتھ ہے۔ انڈین کرکٹ بورڈ کی اس کوشش کے پیچھے کئی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سن 2011 کے عالمی کپ کرکٹ کی میزبانی کرکٹ کھیلنے والے ایشین ممالک کے پاس ہے اور اگر ایشین بلاک مضبوط نہیں ہوتا تو اس طرح کے سیکیورٹی معاملات عالمی کپ 2011 سے پہلے بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ادھر آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ چمپیئنز ٹرافی کی میزبانی کا فیصلہ ایشین بلاک کی جانب سے کسی دباؤ کے سبب کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی 24 July, 2008 | کھیل ’چیمپئنز ٹرافی، فیصلہ اس ہفتے20 July, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی پر آئی سی سی اجلاس 19 July, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی کے لیے ڈوپ ٹیسٹ20 July, 2008 | کھیل اولمپکس، ڈرگ ٹیسٹوں پر تشویش21 July, 2008 | کھیل انڈیا: امپائر کا فیصلہ چیلنج24 July, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||