BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2008, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بورڈ کے کہنے پر تبدیلی کی‘

کرکٹ
کھلاڑی کی تبدیلی شکست کی وجہ نہیں ہے: اشرف خان
وفاقی وزارت کھیل نے ٹورنٹو کے چار قومی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے پاکستانی ٹیم میں تبدیلی کی ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ پر عائد کردی ہے۔

وفاقی سیکریٹری کھیل اشرف خان نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹیم میں تبدیلی وزارت کھیل نے ضرور کی تھی لیکن اس نے ایسا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی اور دوسرے عہدیداروں کے کہنے پر کیا۔

اشرف خان نے کہا کہ ٹیم کی منظوری کا اختیار پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو حاصل ہے لیکن چونکہ کرکٹ بورڈ چیئرمین کے بغیر کام کر رہا تھا لہٰذا وزارت کھیل کے ماتحت ہونے کے سبب ٹیم کی منظوری کا اختیار وزارت ہی کو حاصل تھا لیکن اس نے ٹیم میں ردوبدل خود نہیں کی بلکہ پی سی بی کے عہدیداروں کے کہنے پر ایسا کیا گیا۔

اس سوال پر کہ کیا چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے ٹیم میں ردوبدل کا کہا انہوں نے کہا ’جی ہاں نغمی صاحب اور کچھ اور عہدیداروں نے جن کے نام اس وقت انہیں یاد نہیں ٹیم میں تبدیلی کی تجویز یہ کہہ کر دی تھی کہ فلاں کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے لہٰذا اسے شامل کیا جائے۔ مجھے خواب تو نہیں آتے کہ کون اچھا ہے کون نہیں۔ مجھے تو ٹیم کی رسمی منظوری دینی تھی لہٰذا پی سی بی حکام نے جو کہا وہ کردیا گیا لیکن کھلاڑی کی تبدیلی شکست کی وجہ نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ ٹورنٹو کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے سلیکٹرز نے پندرہ رکنی ٹیم میں آف اسپنر سعید اجمل کو شامل کیا تھا لیکن جب ٹیم کا اعلان ہوا تو اس میں ان کی جگہ اوپنر شعیب خان کا نام شامل تھا۔

اس پر مستعفی ہونے والے چیف سلیکٹر صلاح الدین احمد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین اعجاز بٹ سے تحقیقات کامطالبہ کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ یہ تبدیلی کس نے کی ایک خط وزارت کھیل کو خط لکھا ہے۔ اشرف خان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا خط انہیں موصول ہوا ہے جس کا جواب دیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا ٹورنٹو سے وطن واپسی پر کپتان شعیب ملک اور کوچ جیف لاسن نے بھی ٹیم سلیکشن پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔

صلاح الدین احمد کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی اور کپتان کوچ کے درمیان ٹیم کے انتخاب کے معاملے پر تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد