BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 October, 2008, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کرکٹ کو چیلنج: سابق کرکٹرز

 انضمام الحق بھی وزیرقانون سے ملنے والوں میں تھے
انضمام الحق بھی وزیرقانون سے ملنے والوں میں تھے
پانچ سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے اتوار کو لاہور میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک سے ملاقات کی جس میں پاکستانی کرکٹ کو درپیش بحرانی صورتحال پر تفصیلی بات ہوئی۔

وفاقی وزیر قانون سے ملاقات کرنے والوں میں رمیز راجہ، وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور اور مشتاق احمد شامل تھے جنہوں نے پاکستانی کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر اپنی تشویش سے وزیرقانون کو آ گاہ کیا۔

ان کرکٹرز کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بغیر چیئرمین اور وزارت کھیل کی ماتحتی میں کام کرنے سے ملکی کرکٹ اس وقت بے یقینی کا شکار ہے اس کے علاوہ سکیورٹی کے خدشات نے غیرملکی ٹیموں کو بھی پاکستان آنے سے روک دیا ہے۔

وزیرقانون نے کرکٹرز کو یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور انہیں یقین ہے کہ جلد ہی حالات بہتر ہونے پر انٹرنیشنل کرکٹ بھی پاکستان میں واپس آجائے گی۔

وزیرقانون نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین کی تقرری جلد کردی جائے گی تاہم انہوں نے پی سی بی کے آئین میں ترمیم کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کرکٹ بورڈ میں شخصی اجارہ داری ختم کرنا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین شفاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے آئین کے سلسلے میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور وہ چاہیں گے کہ بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے کرکٹرز اس کمیٹی میں شامل ہوکر اپنے تجربے سے مستفیذ کریں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے آئی سی سی کے اجلاس میں وفاقی وزیر کھیل نجم الدین خان کی شرکت کے فیصلے پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ آئی سی سی جیسے اہم فورم میں وہی شرکت کرے جسے کرکٹ پر مکمل عبور حاصل ہو جس پر وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وہ وزیر کھیل سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

ملاقات میں آئی سی ایل کھیلنے والے کرکٹرز پر پابندی کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔ سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا تھا کہ کرکٹرز کے لئے ملک اولین ترجیح ہے لیکن انہیں دوسری جگہوں پر بھی کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔

محمد آصفپاکستانی ساکھ
پاکستانی کرکٹ کی ساکھ کو شدید نقصان
رمیض راجہ’من پسند دورے‘
’غیر ملکی دوروں کے لیے یکساں پالیسی ضروری‘
سماعت پیر کو
کیا شعیب بغیر جرمانہ ادا کیے کھیل سکتے ہیں؟
کرکٹرز پر جرمانہ
ٹیم ڈسپلن کی خلاف ورزی
شعیب اخترشمولیت مشروط
انحصار لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ہوگا۔
توقیر ضیاءکیسے مطمئن کریں
ٹاسک فورس:’ پاکستانی نمائندگی ضروری تھی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد