عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | انضمام الحق بھی وزیرقانون سے ملنے والوں میں تھے |
پانچ سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے اتوار کو لاہور میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک سے ملاقات کی جس میں پاکستانی کرکٹ کو درپیش بحرانی صورتحال پر تفصیلی بات ہوئی۔ وفاقی وزیر قانون سے ملاقات کرنے والوں میں رمیز راجہ، وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور اور مشتاق احمد شامل تھے جنہوں نے پاکستانی کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر اپنی تشویش سے وزیرقانون کو آ گاہ کیا۔ ان کرکٹرز کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بغیر چیئرمین اور وزارت کھیل کی ماتحتی میں کام کرنے سے ملکی کرکٹ اس وقت بے یقینی کا شکار ہے اس کے علاوہ سکیورٹی کے خدشات نے غیرملکی ٹیموں کو بھی پاکستان آنے سے روک دیا ہے۔ وزیرقانون نے کرکٹرز کو یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور انہیں یقین ہے کہ جلد ہی حالات بہتر ہونے پر انٹرنیشنل کرکٹ بھی پاکستان میں واپس آجائے گی۔ وزیرقانون نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین کی تقرری جلد کردی جائے گی تاہم انہوں نے پی سی بی کے آئین میں ترمیم کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کرکٹ بورڈ میں شخصی اجارہ داری ختم کرنا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین شفاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے آئین کے سلسلے میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے اور وہ چاہیں گے کہ بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے کرکٹرز اس کمیٹی میں شامل ہوکر اپنے تجربے سے مستفیذ کریں۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر نے آئی سی سی کے اجلاس میں وفاقی وزیر کھیل نجم الدین خان کی شرکت کے فیصلے پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ آئی سی سی جیسے اہم فورم میں وہی شرکت کرے جسے کرکٹ پر مکمل عبور حاصل ہو جس پر وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وہ وزیر کھیل سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ ملاقات میں آئی سی ایل کھیلنے والے کرکٹرز پر پابندی کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔ سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا تھا کہ کرکٹرز کے لئے ملک اولین ترجیح ہے لیکن انہیں دوسری جگہوں پر بھی کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ |