من پسند دورے، آئی سی سی ایکشن لے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق کرکٹرز نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رکن ممالک کی جانب سے من پسند ملکوں کے دورے کے رجحان پر قابو پانے کے لیے اپنے قوانین میں تبدیلی لائے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھارت کے دارالحکومت دلی میں ہونے والے دھماکوں کے باوجود آسٹریلوی کھلاڑیوں کے وہاں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جانب سے پاکستان میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد آسٹریلیا نے اس برس کے اوائل میں پاکستان کا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔ پاکستان کے سابق کپتان رمیض راجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پِک اینڈ چوز‘ پالیسی کا خاتمہ ضروری ہے اور ’آئی سی سی کو اپنے قوانین میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کھیلنے والے کچھ ممالک کو کچھ علاقوں میں ’اپنی مرضی سے نہ کھیلنے کی اجازت دی جا رہی ہے‘۔ پاکستان کے ایک اور سابق کپتان اور سنہ 1992 میں عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ’ میرے نزدیک وقت آ گیا ہے کہ آئی سی سی ایک بہتر کردار ادا کرے اور یہ بات یقینی بنائے کہ آسٹریلیا جیسے ممالک اپنے دوروں کا انتخاب خود نہ کریں‘۔ انتخاب عالم نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تمام رکن ممالک کے لیے آئی سی سی کی یکساں پالیسی ہونی چاہیے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے ہی آسٹریلیا سے کہہ چکا ہے کہ وہ غیر ملکی دوروں کے حوالے سے دہرا معیار نہ اپنائے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے حال ہی میں کہا ہے کہ بھارت میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں کے بعد بھی اگر آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم بھارت کا دورہ کرتی ہے تویہ ان کے دہرے معیار کا آئینہ دار ہوگا۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا دہرا معیار نہ اپنائے: نغمی16 September, 2008 | کھیل ’بورڈ کچھ کر سکا، نہ کرسکے گا‘12 September, 2008 | کھیل ویسٹ انڈیز سے سیریز کی کوشش13 September, 2008 | کھیل ’سکیورٹی جائزہ باریک بینی سے‘14 September, 2008 | کھیل آسٹریلیائی دورہ، سیکیورٹی خدشات15 September, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||