BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2008, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بورڈ کچھ کر سکا، نہ کرسکے گا‘

آسٹریلیا کی ٹیم نے پچھلے دس سال سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتانوں اور ایڈمنسٹریٹرز کی متفقہ رائے یہ ہے کہ غیرملکی ٹیموں کے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کا ایک بڑا سبب حالات کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کمزور موقف بھی ہے۔ان کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے جرات مندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔

واضح رہے کہ نائن الیون کے بعد اس خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال میں انٹرنیشنل کرکٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے اور غیرملکی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے سے انکار کرچکی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بھی پاکستان میں ممکن نہیں ہوسکا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور سابق کپتان رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ 2002ء میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز نیوٹرل گراؤنڈز پر کھیلنا پاکستان کرکٹ بورڈ کی مجبوری تھی کیونکہ اس وقت اسے پیسوں کی ضرورت تھی اور کرکٹرز کو بھی کرکٹ فراہم کرنی تھی۔

پاکستان نے غیرملکی حالات میں غیرمعمولی قدم اٹھایا لیکن انہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالمی کرکٹ نے مشکل صورتحال سے نکالنے میں پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی۔ آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈز اگر یکجا ہوکر پاکستان کی مدد کرتے تو اسے بہت زیادہ کرکٹ مل جاتی۔

رمیزراجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ میں ایسی کوئی بھی موثر آواز نہیں ہے جو بین الاقوامی سطح پر اثرانداز ہوسکے۔

عمران پاکستان میں کرکٹ میچ نہ ہونے کا تعلق حکومتی پالیسیوں سے جوڑتے ہیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی طرح کرکٹ کی اکنامک پاور نہیں ہے جو اپنی بات منواسکے تاہم اس ضمن میں پبلک ریلشننگ بڑی ضروری ہوتی ہے اور یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آئی سی سی کے فورم پر آپ کس طرح اپنا موقف پیش کرتے ہیں اور اسے منواتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے شہریارخان کا اس بارے میں کہنا یہ ہے کہ اسوقت پاکستان کرکٹ بورڈ کا بین الاقوامی سطح پر کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے جس کی وجہ سے غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے انکار کردیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دوراندیشی اور حالات کے مطابق اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ۔

شہریارخان کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کے ساتھ کچھ اسطرح کا ایڈجسٹمنٹ کرنا چاہیئے تھا کہ اس سال کی چیمپئنز ٹرافی کے بجائے اگلے سال کی چیمپئنز ٹرافی کے پاکستان میں انعقاد کی بات کرتے کیونکہ اس وقت نہ پاکستان کو کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی یہ بات یقینی ہے کہ آئندہ سال بھی یہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہوگی یا نہیں ؟ ۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالات یقیناً اچھے نہیں خود کش دھماکے پہلے شہروں میں نہیں ہورہے تھے اب شہروں میں بھی ہونے لگے ہیں لیکن کرکٹ دہشت گردی کی زد میں نہیں ہے۔ ان کے دور میں بھی یہ مشکلات ہوئیں لیکن ٹیموں کو قائل کیا گیا۔ جنوبی افریقہ اور بھارت کی ٹیمیں پاکستان کے دورے پر آئیں اور بلاخوف وخطر کرکٹ کھیل کر گئیں۔

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آسٹریلیا کے ساتھ جرات مندانہ انداز اختیار کرنا چاہیئے تھا اسے آسٹریلین کرکٹ بورڈ پر یہ بات واضح کردینی چاہئےتھی کہ آسٹریلوی ٹیم پاکستان نہیں آئی تو پاکستانی ٹیم بھی آسٹریلیا نہیں جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ گزشتہ دس سال سے آسٹریلوی ٹیم پاکستان کےدورے پر نہیں آرہی لیکن بھارت میں ہونے والے بم دھماکوں کے باوجود وہ وہاں کھیلنے کے لئے تیار ہے۔اسے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کمزوری سمجھتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسوقت سیاست میں سرگرم عمران خان پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے تانے بانے سرکاری پالیسیوں سے جوڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرملکی ٹیموں کا پاکستان میں آکر نہ کھیلنا ان کی منفی سوچ نہیں بلکہ اس خوف کا نتیجہ ہے جو ان کی حکومتوں کی پاکستان کے بارے میں واضح ہدایت کے سبب پیدا ہوا ہے کہ پاکستان کا سفر نہ کیا جائے وہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نیوزی لینڈ ٹیم کے سامنے بم دھماکہ ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے دل ودماغ میں خوف بیٹھ جائے گا اور وہ یہاں آنے کے لئے تیار نہیں ہونگے اور پھر باہر رہنے والے روز خود کش دھماکوں کی خبریں پڑھ کر کیسے یہاں آنے کے بارے میں سوچیں گے۔

سابق کپتان نے کہا کہ اس صورتحال میں کسی بھی کرکٹ بورڈ کے لئے آسان نہیں ہے کہ وہ دنیا کویہاں کھیلنے کے لئے قائل کرسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد