ٹاسک فورس:’پاکستانی نمائندگی ضروری تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی کی ٹاسک فورس کے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے خدشات دور کرنے میں ناکامی کے بعد پاکستان کے کرکٹ حلقے کسی پاکستانی آفیشل کو ٹاسک فورس میں شامل نہ کرنے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ ٹاسک فورس میں ڈاکٹر نسیم اشرف کا نام شامل تھا اگر وہ کسی وجہ سے نہیں جا سکے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کو ٹاسک فورس کے ساتھ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی پاکستانی کے نہ ہونے سے یقینا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ حکام اور کھلاڑیوں پر منفی اثر ہوا ہو گا کیونکہ وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ پاکستان خود ہی چیمپئنز ٹرافی کروانے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان سے ایک سے زیادہ اعلی درجے کے حکام کسی پاکستانی سکیورٹی ماہر کو ساتھ لے کر جاتے تاکہ وہاں کے کھلاڑیوں کو یہ احساس ہوتا کہ یہ انہیں پاکستان بلانے میں کتنے سنجیدہ ہیں اور یہ ان کی پاکستان میں بہتر طور پر میزبانی کریں گے۔ سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ چمپئنز ٹرافی میں چند دن باقی ہیں اور ابھی تک سٹیڈیمز میں کام ہو رہا ہے اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ حکام چیمپئنز ٹرافی کے پاکستان میں انعقاد پر سنجیدہ نہیں۔ پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے تھا کہ کسی سابق کرکٹر کو ٹاسک فورس کے ساتھ اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بڑا پاکستانی کھلاڑی انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ عامر سہیل نے کہا کہ ٹاسک فورس میں چاہے پاکستان کی ٹیم کے کوچ جیف لاسن تھے لیکن ان کے خیال میں کوئی پاکستانی جس جذبے کے ساتھ ان کو قائل کرنے کی کوشش کر سکتا تھا ایسا جذبہ آئی سی سی کی ٹاسک فورس میں نہیں ہو سکتا۔ عامر سہیل کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سلسلے میں صحیح طور پر ہوم ورک نہیں کیا اور اگر کوئی پاکستانی سکیورٹی ماہر ٹاسک فورس کے ساتھ ہوتا تو وہ ان تمام سوالوں کا جواب دے سکتا تھا جو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹرز سیکیورٹی کے ضمن میں کرنا چاہتے ہوں گے۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جانے والی ٹاسک فورس کے سربراہ ڈیوڈ رچرڈسن نے وہاں کے کھلاڑیوں کو قائل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد کہا ہے کہ اگر جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے کھلاڑی بھی نہ مانے تو چیمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ سری لنکا منتقل کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں چیمپئنز ٹرافی، نظرثانی شدہ شیڈول13 August, 2008 | کھیل شعیب چیمپئنز ٹرافی ٹیم میں شامل12 August, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی: پنڈی میں میچ نہیں11 August, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی:کیا سٹیڈیم تیار ہیں04 August, 2008 | کھیل چیمپیئنز ٹرافی، فول پروف سکیورٹی02 August, 2008 | کھیل ’چیمپئنز ٹرافی کی منتقلی پرغورممکن‘07 July, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||