شعیب چیمپئنز ٹرافی ٹیم میں شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ ستمبر سے شروع ہونے والے آئی سی سی چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ فاسٹ بالر شعیب اختر کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ صلاح الدین صلو نے ٹیم کے اعلان کے لیے کی گئی پریس کانفرنس میں بتایا کہ شعیب اختر نے ملتان میں ہونے والے دونوں میچوں میں اچھی بالنگ کروا کے فٹنس ثابت کر دی ہے۔ ملتان میں ہونے والے دونوں میچز میں فاسٹ بالر عمر گل، شاہد آفریدی اور سلمان بٹ نہیں کھیلے تاہم یہ تینوں بھی پندرہ رکنی ٹیم کا حصہ ہیں۔ عمر گل ایشیا کپ کے دوران ان فٹ ہو گئے تھے جبکہ شاہد آفریدی بھی کہنی میں چوٹ لگنے کے سبب نہیں کھیل سکے جبکہ سلمان بٹ اپنڈکس کے آپریشن کے سبب ان میچز کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ صلاح الدین صلو کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورنگ بورڈ کے رکن اور پی سی بی کی میڈیکل کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق یہ کھلاڑی فٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی چمپئنز ٹرافی میں ایک مہینہ باقی ہے اور بعد میں ہونے والے ٹرائل میچز میں ان کی میچ فٹنس کا جائزہ لے لیا جائے گا۔ شاہد آفریدی کی موجودہ ناقص بیٹنگ فارم کے سلسلے میں صلاح الدین صلو نے کہا کہ بری فارم تو دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں پر آ جاتی ہے اور شاہد آفریدی بہت اچھے بالر اور زبردست فیلڈر ہیں اس لیے ان کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے۔
صلاح الدین صلو کے مطابق شعیب ملک بھی بہت اچھے آل راؤنڈر ہیں اور ان کی قومی ٹیم میں پہلی بار شمولیت آف سپنر کے طور پر ہوئی تھی اور ان کی بیٹنگ تو ہے ہی بہت اچھی اور ان کی شمولیت اسی لیے آل راؤنڈر کے طور پر ہوئی ہے۔ سینئر بیٹسمین محمد یوسف کی جانب سے رمضان المبارک کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کھیلنے سے معذرت سے مڈل آڈر میں جو خلا آیا تھا اسے پورا کرنے کے لیے پندرہ کھلاڑیوں میں بازید خان اور خالد لطیف جیسے بلے بازوں کو شامل کیا گیا ہے۔ خالد لطیف اوپننگ بیٹسمین ہیں اور ان کے بارے میں صلاح الدین صلو نے کہا کہ وہ تین اور چار نمبر پر بھی اچھی بیٹنگ کرتے ہیں۔ ایشیا کپ میں ٹیم سے باہر ہونے والے وکٹ کیپر کامران اکمل کو اس ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ صلاح الدین صلو نے کہا کہ ٹرائل میچز میں کامران اکمل نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے اپنا وزن بھی کم کر لیا ہے اور خاصے پھرتیلے بھی ہو گئے ہیں۔ صلاح الدین صلو کے مطابق اگرچہ سرفراز احمد نے بھی ٹرائل میچز میں اچھی کارکردگی دکھائی لیکن کامران اکمل ہمارے نمبر ایک وکٹ کیپر ہیں اور انہیں اچھی بیٹنگ کے سبب بھی ترجیح دی گئی ہے۔ صلاح الدین صلو نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کے کوچ جیف لاسن سے ٹیم کے انتخاب میں اختلاف رائے تو ہو سکتا ہے لیکن جب سب کی رائے کے ساتھ ٹیم بن جاتی ہے تو یہ اختلاف رائے ختم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں آج یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ سلیکشن کمیٹی سے اختلاف رائے کے سبب جیف لاسن آج صبح آسٹریلیا واپس چلے گئے ہیں۔
اس معاملے کی وضاحت پریس کانفرنس میں موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے کی اور کہا کہ جیف لاسن کو آئی سی سی کی ٹاسک فورس میں شامل کر لیا گیا ہے اور وہ ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر چیمپئنز ٹرافی کے پاکستان میں انعقاد کے حوالے سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کے خدشات دور کریں گے۔ شفقت نغمی نے کہا کہ پاکستان میں اس بار چمپئنز ٹرافی کا انعقاد یہاں کرکٹ کے مستقبل کے لیے بہت ضروری تھا کیونکہ اگر اس بار یہ نہ ہوتی تو غیر ملکی ٹیمیں کبھی پاکستان کھیلنے کے لیے نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سکیورٹی پر پورا یقین ہے اور پاکستان کھیلوں کے انعقاد کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ شفقت نغمی کے مطابق شعیب اختر کے جرمانہ ادا نہ کرنے کے معاملے کا ان کی سلیکشن سے کوئی تعلق نہیں اور اگر ہائی کورٹ نے ان کا جرمانہ برقرار رکھا تو ان سے یہ جرمانہ بعد میں بھی وصول کر لیا جائے گا۔ چمپئنز ٹرافی کے لیے ٹیم: | اسی بارے میں چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان22 March, 2008 | کھیل انتظامات سے مطمئن ہیں:آئی سی سی25 April, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی 24 July, 2008 | کھیل چیمپئنز ٹرافی پر آئی سی سی اجلاس 19 July, 2008 | کھیل ’چیمپئنز ٹرافی کی منتقلی پرغورممکن‘07 July, 2008 | کھیل ’چیمپیئنز ٹرافی کے انعقاد پر خوشی‘17 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||