BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیمپئنز ٹرافی:کیا سٹیڈیم تیار ہیں

چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ میں صرف سینتیس دن باقی رہ گئے ہیں
گیارہ ستمبر سے پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کے لیے طے شدہ دو شہروں کے سٹیڈیمز میں تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے۔

قذافی سٹیڈیم لاہور اور راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں چمپئنز ٹرافی کے اہم میچز ہونے ہیں اور ان دونوں سٹیڈیمز میں نشستیں بڑھانے اور دیگر سہولتوں کے لیے تعمیر کا کام مقررہ وقت تک مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

قذافی سٹیڈیم لاہور میں چھ ہزار سے زائد نشستوں والے پویلین کے علاوہ جدید سہولتوں سے آراستہ میڈیا سنٹر کی تعمیر کا آغاز اس سال فروری میں ہوا تھا اور اس کو مکمل کرنے کے لیے حتمی تاریخ بیس اگست دی گئی تھی لیکن اس وقت عمارت کا ابھی صرف ڈھانچہ ہی کھڑا ہوا ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ یہ کام چمپئنز ٹرافی کے آغاز تک مکمل ہو پائےگا۔

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں آٹھ ہزار تماشائیوں کی گنجائش بڑھانے کے لیے بھی پویلین دو ڈریسنگ رومز، میڈیا سنٹر اور پریس کانفرنس روم کی تعمیر کا کام اس سال جنوری میں شروع ہوا تھا اور اس کی تکمیل کے لیے حتمی تاریخ پندرہ اگست دی گئی تھی۔اگرچہ راولپنڈی سٹیڈیم میں کافی کام ہو چکا ہے اور عمارت بن چکی ہے تاہم اندرونی کام ہونا ابھی باقی ہے۔

چند روز پہلے راولپنڈی سٹیڈیم کی گراؤنڈ کو بھی ادھیڑ دیا گیا تاکہ اس پر نئی سطح بنائی جائے اور ماہرین کے مطابق نئی سطح بنانے میں کافی عرصہ لگتا ہے۔
لاہور اور راولپنڈی میں مون سون کے سبب بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے سبب کام کی رفتار مزید متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفسر شفقت نغمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور اور پنڈی دونوں سٹیڈیمز کی اوپر والی چھتوں پر کام رکوا دیا گیا ہے اس کے ڈیزائن میں کچھ تبدیلی کی ضرورت تھی اور یہ کام چمپئنز ٹرافی کے بعد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ باقی کام چمپئنز ٹرافی سے پہلے مکمل ہو جائے گا اور تعمیراتی کمپنیاں یکم ستمبر تک دونوں سٹیڈیمز کو کام مکمل کر کے پی سی بی کے سپرد کر دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پنڈی سٹیڈیم کا گراؤنڈ بھی مقررہ وقت تک تیار ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں کالج اینڈ کی جانب میڈیا سنٹر بنانے کا ارداہ ترک کر دیا گیا تھا اس لیے وہاں میڈیا سنٹر نہیں بنایا جا رہا۔

شفقت نغمی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ راولپنڈی سٹیڈیم کی جگہ فیصل آباد سٹیڈیم کو متبادل وینیو کے طور پر رکھا جا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ چمپئنز ٹرافی کے راولپنڈی میں شیڈیول میچز وہیں ہوں گے اور کوئی متبادل وینیو مد نظر نہیں رکھا جا رہا۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ آئی سی سی کا مطالبہ ہے کہ سٹیڈیمز پندرہ اگست تک ان کے حوالے کر دیے جائیں۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کے خدشات کے سبب پی سی بی سکیورٹی معاملات میں الجھا ہوا ہے لیکن ان سٹیڈیمز میں تعمیراتی کام اگر وقت پر مکمل نہ ہو سکا تو پی سی بی کے حکام انتظامی معاملات میں بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ میں صرف سینتیس دن باقی رہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد