’پیار سے ہینڈلنگ کی ضرورت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ٹیم کے نئے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہےکہ فاسٹ بالر شعیب اختر اگر سو فیصد فٹ ہوں تو وہ پاکستان کی ٹیم کے لیے بہت کارآمد کھلاڑی ہیں۔ شعیب اختر اکثر تنازعات کا شکار رہتے ہیں اور غیر ملکی کوچ آنجہانی باب وولمر اور پھر جیف لاسن بھی ان کے رویے سے نالاں تھے۔ جیف لاسن نے ٹورونٹو میں ہونے والے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں شعیب اختر کی پلان سے ہٹ کر بالنگ کروانے سے بہت ناراض تھے اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ رویہ شعیب اختر کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ادھر انتخاب عالم اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے شعیب اختر کو ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر دو سال کی پابندی کی سزا سنائی تھی اور بعد میں بھی وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے تھے لیکن اب شعیب اختر کے لیے ان کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ انتخاب عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاری پینٹینگولر کپ کے سلسلے میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اور سلیکشن کمیٹی کو ٹیم کے انتخاب میں اپنی سفارشات دینے کے لیے اسلام آباد میں ہیں اور اس دوران انہوں نے دو دن مسلسل شعیب اختر سے ایک ایک گھنٹہ بات چیت کی ہے۔
انتخاب عالم کے مطابق انہوں نے شعیب اختر کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ان کے خلاف نہیں ہیں اور ڈوپنگ کے معاملے میں انہیں جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ پوری کرنے کی کوشش کی۔ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ شعیب اختر نے ان کی بات سمجھتے ہوئے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ کچھ کھلاڑیوں کو پیار سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اورشعیب اختر ایسے ہی کھلاڑیوں میں سے ہیں۔ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ چونکہ ویسٹ انڈیز کےخلاف ایک روزہ میچز کی سیریز جلدی میں طے پائی ہے اورپینٹینگولر کپ کی وجہ سے کھلاڑی مصروف ہیں اس لیے کیمپ لگانے کی ضرورت نہیں۔ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کو بھی اہم سمجھتے ہیں لیکن ان کی توجہ بھارت کے خلاف اگلے سال کے شروع میں ہونے والی سیریز پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈنگ اور دیگر شعبوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ فٹ نس اور ٹیم کو یکجا کرنے پر بھی بھر پور توجہ دی جائے گی کیونکہ فتح کے لیے کھلاڑیوں میں یک جہتی اور ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ انتخاب عالم نے تسلیم کیا کہ اس وقت بھارت کی ٹیم اچھی فارم میں ہے اور آسٹریلیا کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کی ٹیم کو سنہ 2008 میں کوئی ٹیسٹ میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اس فرق کو تاویل کے طور پر پیش نہیں کریں گے اور ان کی کوشش ہو گی کہ پاکستانی کھلاڑی اس کو ذہن پر سوار نہ کریں۔ ’یہ ایک نفسیاتی جنگ ہے جسے وہ محنت اور جذبے سے جیت سکتے ہیں اور بھارت کے خلاف بہت زبردست کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔‘ انتخاب عالم نےکہا کہ اگرچہ بھارت کی ٹیم ایک اچھی متوازن ٹیم ہے لیکن آسٹریلیا کی ٹیم بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ انتخاب عالم کے بقول بھارت کے خلاف سیریز بطور کوچ ان کے لیے بھی اور ٹیم کے لیے بھی ایک چیلنج ہوگا۔ جیف لاسن کے ساتھ آئے فزیکل ٹرینر ڈیوڈ ڈائر پر انتخاب عالم نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں گے کیونکہ وہ بہت محنتی ہیں اور کھلاڑی بھی ان سے بہت متاثر اور مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابو ظہبی کی وکٹوں کی بابت وہ زیادہ نہیں جانتے اس لیے کوئی پیش گوئی تو نہیں کریں گے لیکن انہیں امید ہے کہ کھلاڑی اچھا کھیلیں گے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز جیت لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے ساتھ ٹیم کے انتخاب کے لیے مشاورت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ ابو ظہبی کے لیے ٹیم کااعلان تین نومبر تک کر دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں انتخاب عالم دو سال کے لئے کوچ25 October, 2008 | کھیل ’برطرفی سیاسی تبدیلی کے باعث‘27 October, 2008 | کھیل ویسٹ انڈیز کے ساتھ ٹیسٹ متوقع23 October, 2008 | کھیل ٹونٹی ٹونٹی کے لیے ٹیم کا اعلان07 October, 2008 | کھیل کوچ سے مطمئن نہیں: چیئرمین08 October, 2008 | کھیل صلاح الدین صلو مستعفی ہوگئے08 October, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||