کوچ سے مطمئن نہیں: چیئرمین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چئرمین سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی ٹیم اور اس کے غیر ملکی کوچ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ بحثیت چیئرمین نے بی بی سی سے ایک خصوصی بات چیت میں کہا کہ کہ پاکستان کی ٹیم میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیف لاسن ابھی تک کچھ بھی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’انہیں کیا سوچ کر یہ کام دیا گیا اور ان سے کیا توقعات تھیں یہ تو گزشتہ مینجمنٹ ہی بتا سکے گی لیکن میری ابھی یہ رائے ہے کہ جیف لاسن کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے‘۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف کے استعفے کے بعد اس عہدے کے کئی امید وار تھے لیکن ’مجھے یہ عہدہ ملنے کی کافی امید تھی‘۔ اعجاز بٹ کے مطابق یہ عہدہ اگرچہ ان کے لیے ایک چیلنج ہے لیکن وہ اس چیلنج کو نبھانے کی پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن وامان کے بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے روز نئے واقعات کے سبب پاکستان کی کرکٹ کو در پیش مسائل سے وہ بخوبی واقف ہیں اور جیسے کہ حکومت بھی اس سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ’اسی طرح ہم کرکٹ پر اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کریں گے‘۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ نیوٹرل وینیو کی تجویز پر غور ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح پاکستان کی ٹیم کو کرکٹ کھلانا ہے اور بد قسمتی سے اس سال پاکستان کی ٹیم کو کوئی ٹیسٹ میچ کھیلنے کو نہیں ملا لہذا اگر کسی دوسرے ملک میں پاکستان کی سیریز کروانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو ضرور کھیلیں گے اور پاکستان تمام دروازے کھلے رکھنے کی پالیسی اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ اکتوبر کو آئی سی سی کے اجلاس میں وہ پاکستان کی کرکٹ کی ترقی کے لیے بات کریں گے اور یہ باور کروانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کے معاملے میں دہرے معیارات نہ اپنائیں۔ ’اگر بھارت میں بم پھٹنے کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم وہاں کھیل سکتی ہے تو اسے پاکستان بھی آنا چاھیے‘۔ کھلاڑیوں کے نظم وضبط کی بابت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نئے چئرمین نے کہا کہ نظم وضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاھیے لیکن اس سلسلے میں نا انصافی اور حد سے زیادہ سزا کے وہ قائل نہیں۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ سکیورٹی کے خدشات کے سبب ٹیمیں آنے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی مسائل ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ انتظامی مسائل کرکٹ کا معیار گر رہا ہے اس کے مسائل ہیں ان تمام مسائل کو دیکھنا اور ان سے نمٹنا ان کی ترجیحات ہیں۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ ہر چیئرمین کی طرح وہ اپنی انتظامی ٹیم بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صلاح الدین صلو کے استعفے کا ان کے اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ان کے مطابق ایسا نہیں کہ ہر شخص کو بدلہ جائے لیکن اکثریت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ نئے چیئرمین کے مطابق کرکٹ بورڈ کی اصل روح کرکٹرز ہیں اور یہ تمام فنڈز اور تمام رونقیں ان ہی کے دم سے ہیں اس لیے وہ سابق کرکٹرز کو تمام معاملات میں ساتھ رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورنگ بورڈ کام کرتا رہے گا البتہ حکومت کرکٹ بورڈ کے آئین میں تبدیلی کی مجاز ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ متنازعہ کرکٹ لیگ کے سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا وہی موقف ہو گا جو آئی سی سی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات میں ان کی پالیسی واضح ہو گی اور ہر کوئی اس پر تنقید کر سکے گا اس تنقید کا جواب دیا جائے گا اور کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کافی عرصےکے بعد ایک ٹیسٹ کرکٹر کو یہ عہدہ دیا گیا ہے اس لیے قوم کو ان سے توقعات ہوں گی جن پر پورا اترنے کی وہ کوشش کریں گے۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر نسیم اشرف مستعفی18 August, 2008 | کھیل پی سی بی وزارت کھیل کےماتحت22 September, 2008 | کھیل آئی سی سی: ماجد خان کا نام تجویز09 May, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||