BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2008, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطرفی سیاسی تبدیلی کے باعث‘

جیف لاسن
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جیف لاسن کے تمام واجبات ادا کر دیئے ہیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بر طرف کیے گئے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ ان کی بر طرفی کارکردگی کے سبب نہیں بلکہ پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

چوبیس اکتوبر کو اپنی بر طرفی کے بعد جیف لاسن پہلی مرتبہ ذرائع ابلاغ سے بات کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے تمام تر واجبات ادا کر دیے ہیں اب وہ خوش ہیں اور پہلی دستیاب فلائیٹ سے آسٹریلیا چلے جائیں گے۔

جیف لاسن نے ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی ان خبروں کی تردید کی کہ وہ پی سی بی کے نئے چئرمین اعجاز بٹ کی جانب سے ان کی کارکردگی کو نشانہ بنانے پر ناخوش ہیں جو کہ ان کے لیے کسی دوسرے ملک کے لیےکوچنگ کا کام ملنے کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

جیف لاسن نے کہا کہ وہ ایسی کسی بات سے آگاہ نہیں کہ پی سی بی کے چئرمین نے ان کی کوچنگ پر تنقید کی ہو لہذا انہیں کوئی شکایت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پہلے سے ہی کوئی درجن کے قریب کمنٹری اور کوچنگ کرنے کی پیشکشیں موجود ہیں۔

جیف لاسن کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی کوچنگ چھوٹنے پر کچھ اداس ہیں کیونکہ ان کا پاکستان میں بھت اچھا وقت گزرا اور انہوں نے ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر محمد یوسف اور یونس خان جیسے عظیم کھلاڑیوں کی بیٹنگ دیکھی۔

ہمیشہ تنازاعات کا شکار رہنے والے فاسٹ بالر شعیب اختر کے متعلق جن کے جیف لاسن کے ساتھ بھی تعلقات کوئی خاص خوشگوار نہیں رہے جیف لاسن کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی کچھ موقعوں پر تیز گیند پھینکتے ہیں۔ ’اگر وہ خود کو اپنے کھیل کے لیے وقف کریں اور مکمل فٹ رہیں تو وہ ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کے لیے کچھ نہ کچھ فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔‘

لیکن جیف لاسن نے کہا کہ پاکستان میں کئی اچھے نوجوان بالرز ہیں اور انہیں ٹیم میں تسلسل کے ساتھ کھلانا چاہیے۔

جیف لاسن کا کہنا تھا کہ ’مجھ سمیت اکثر کوچز نے شعیب اختر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چھوٹے رن اپ سے بالنگ کروائیں کیونکہ وہ اس طرح بھی تیز گیند کروا سکتے ہیں لیکن وہ یہ مشورہ نہ جانے کیوں نہیں مانتے‘۔

جیف لاسن نے کہا کہ شعیب اختر کے رویے میں خرابی کا سب سے زیادہ نقصان انہیں ہی ہوتا ہے کیونکہ اگر ان کا رویہ درست نہیں ہو گا تو سلیکٹر انہیں ٹیم میں نہیں لیں گے۔

جیف لاسن کا کہنا تھا کہ ٹورنٹو میں ہونے والے چار ملکی ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے فائنل میں شعیب اختر نے پلان کے مطابق عمل نہیں کیا۔انہیں خاص طور پر ہدایت دی گئی کہ وہ ایسی گیندیں کروائیں جس پر کم سکور ہو لیکن انہوں نے اس بات کی پروا نہیں کی اور یہ ایسا رویہ ہے کہ جس پر شعیب اختر کو ٹیم سے ڈراپ کر دین چاھیے۔

جیف لاسن نے پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ شعیب ملک نے نہ صرف کھیل کے ہر شعبے میں اپنی کارکردگی بہت بہتر کی ہے بلکہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔

جیف لاسن کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں میں کوئی اختلافات ہیں یا سئنیر کھلاڑی شعیب ملک کی کپتانی میں اچھا نہیں کھیلتے بلکہ شعیب ملک کی ٹیم میں کافی عزت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت کے فرق کے سبب ان کا پاکستان میں تجربہ کچھ مشکل رہا لیکن انہوں نے یہاں بہت کچھ سیکھا۔

گزشتہ سال جولائی میں پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری سنبھالنے والے کوچ جیف لاسن کا کہنا تھا کہ عام پاکستانی سے انہیں بہت پیار ملا ۔پاکستانی بہت مہمان نواز ہیں اور ٹیم کی جیت یا ہار سے قطع نظر ان کا رویہ ان کے ساتھ بہت اچھا رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کرکٹ سے محبت کرتی ہے اور اس لیے یہ کرکٹ کے لیے محفوظ ملک ہے یہی وجہ ہے کہ ’میں اس حق میں ہوں کہ چمپئنز ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان میں ہونا
چاھیے‘۔

جیف لاسن نے کہا کہ مستقبل میں موقع ملا تو وہ پاکستان آئیں گے اور پاکستان کے خوبصورت علاقے دیکھنا چاھیں گے جو وہ نہیں دیکھ سکے۔

جیف لاسن کی بر طرفی کے بعد یہ بھی خبریں گردش کرتیں رہیں کہ پاکستان کی ٹیم کے غیر ملکی ٹرینر ڈیوڈ ڈائر کہ جنہیں جیف لاسن ہی اپنے ساتھ لائے تھے پاکستان سے جانا چاھتے ہیں۔

ڈیوڈ ڈائر کا کہنا ہے کہ ان کی اس سلسلے میں میڈیا کے کسی نمائندے سے بات نہیں اور اس خبر میں کوئی سچائی نہیں۔

ڈیوڈ ڈائر کا کہنا ہے آج ان کی ملاقات پاکستان کی ٹیم کے نئے کوچ انتخاب عالم سے ہوئی جس میں ٹیم کی فٹ نس کی بابت کافی مفید بات چیت رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کھلاڑی ان کے بتائے ہوئے فٹ نس پلان پر مکمل عمل کرتے ہیں اور پاکستان کی ٹیم کی فٹ نس بہت اچھی ہے۔

ڈیوڈ ڈائر کا کہنا تھا کہ ابھی انہوں نے پاکستان میں اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تاہم وہ کرکٹ بورڈ اور ٹیم کی نئی مینجمنٹ کے رویوں کا جائزہ لیتے رییں گے۔

اسی بارے میں
صحافی لاسن سے ناخوش
29 June, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد