’مصباح الحق کو کپتانی دی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیاء کپ میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی نے سابق کپتانوں کو یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے اور شعیب ملک کی جگہ مصباح الحق کو کپتان کی حیثیت سے آزمایا جائے۔ واضح رہے کہ ایشیا کپ کے پہلے مرحلے میں پاکستانی ٹیم بھارت سے ہارگئی تھی جبکہ سپر فور مرحلے میں سری لنکا سے شکست نے فائنل تک اس کی رسائی کا موقع گنوادیا۔ سابق کپتان رمیز راجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق کو شعیب ملک کی جگہ کپتانی دینی چاہیے گو کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ مصباح کس پائے کے کپتان ثابت ہونگے لیکن جب تک آپ انہیں نہیں آزمائیں گے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ مصباح کو کپتانی ملنے کی صورت میں ٹیم کے ڈریسنگ روم میں نئی قوت سامنے آئے گی۔ انہوں نے بھارت کے خلاف جس طرح کپتانی کی اس نے سب کو متاثر کیا ہے۔ شعیب ملک کی کپتانی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے ہم شعیب ملک کی کپتانی دیکھ چکے ہیں جس میں کوئی غیرمعمولی بات نظر نہیں آئی ہے۔ یقیناً وہ ٹیم مین ہیں بے غرض کرکٹر ہیں اور وہ ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں اسی لئے انہیں کپتانی ملی لیکن اس کے بعد ان کی جو پوزیشن رہی اس نے انٹرنیشنل کرکٹ کمیونٹی اور پاکستانی شائقین کو متاثر نہیں کیا۔ ان کی کپتانی میں ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کا فقدان رہا ہے۔ ہارنے کی وجہ نظر نہیں آتی تھی اور اگر جیت گئے تو ایسا لگتا ہے جیسے اتفاقیہ ایسا ہوگیا ہو۔ رمیز راجہ نے کہا کہ جب تک ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہیں ہوگا نتائج اسی طرح آتے رہیں گے۔اس سلسلے میں صرف کپتان اور کوچ ذمہ دار نہیں ہیں پورے پیکیج پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں سلیکشن اور منیجمنٹ کے معاملات قابل ذکر ہیں۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قیادت میں تبدیلی کا انحصار کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز کی سوچ پر ہے وہ خود یہ سمجھتے ہیں کہ صرف بیٹنگ کی بنیاد پر شعیب ملک کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔انہیں بولنگ بھی زیادہ کرنی ہوگی اور زیادہ جارحانہ انداز اختیار کرنا ہوگا ورنہ وہ ٹیم سے باہر ہوجائیں گے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ شعیب ملک کو یہ سوچنا ہوگا کہ ٹیم میں ان کی جگہ آل راؤنڈر کی حیثیت سے ہی بنتی ہے۔ انہیں دونوں شعبوں میں پرفارمنس دینی ہوگی جب تک وہ پرفارمنس دیتے رہیں گے انہیں کپتان رہنا چاہیے اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے انہیں ڈراپ کردیا جائے۔ رمیز راجہ اور وسیم اکرم کے برعکس ایک اور سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ صرف کپتان کی تبدیلی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ورلڈ کپ میں بری طرح ناکامیوں کے باوجود ان سے سبق نہیں سیکھا گیا۔ سابق کرکٹرز کی جانب سے کپتان اور کوچ کی کارکردگی پر اعتراضات کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شعیب ملک اور جیف لاسن اپنی مدت پوری کرینگے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف آخری لیگ میچ جیتنے کے بعد پریس کانفرنس میں شعیب ملک سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ باعزت طریقے سے کپتانی چھوڑیں گے یا نکالے جائیں گے تو انہوں نے کپتانی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||