ایشیا کپ پہلی بار پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی پاکستان میں میزبانی کا خواب بالآخر پورا ہوا اور یہ ٹورنامنٹ منگل سے کراچی اور لاہور میں شروع ہو رہا ہے۔ ایشیا کپ اب تک آٹھ مرتبہ منعقد ہوچکا ہے لیکن ایشین کرکٹ میں ایک اہم مقام رکھنے کے باوجود مختلف وجوہات کے سبب پاکستان ابھی تک اس کی میزبانی نہیں کرسکا تھا۔ اس مرتبہ بھی سکیورٹی کے خدشات پیدا کر دیے تھے لیکن ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ ارجناراناتنگا نے پاکستان آکر ان تمام خدشات کو یہ کہہ کر دور کردیا تھا کہ ایشیا کپ پاکستان ہی میں منعقد ہوگا۔ ایشیا کپ کا آغاز84-1983ء میں ہوا تھا اور پہلا ایونٹ شارجہ میں ہوا تھا سنگل لیگ کی بنیاد پر کھیلے گئے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان بھارت اور سری لنکا کی ٹیمیں شریک تھیں اور بھارت نے دونوں حریفوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسری بار یہ ٹورنامنٹ86-1985ء میں سری لنکا میں منعقد ہوا لیکن دفاعی چیمپئن بھارت نے اس میں حصہ لینے سے انکار کردیا کیونکہ ایک سال قبل بھارتی ٹیم کو سری لنکا میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں ہوم امپائروں کے مبینہ غلط فیصلوں پر سخت غصہ تھا اور ایشیا کپ سے اس کی غیرحاضری کی یہی وجہ بنی لہذا بھارت کی غیر موجودگی میں تیسری ٹیم کے طور پر بنگلہ دیش کو شامل کیا گیا۔ میزبان سری لنکا نے مین آف دی ٹورنامنٹ ارجنا رانا تنگا کی قیادت میں ٹائٹل اپنے نام کیا۔
تیسرا ایشیا کپ89-1988ء میں بنگلہ دیش میں کھیلا گیا جس میں کامیابی بھارت نے حاصل کی۔ نوجوت سنگھ سدھو اپنی جارحانہ بیٹنگ کے سبب مین آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے۔ پاک بھارت تعلقات میں اتارچڑھاؤ نے91-1990ء میں بھارت میں ہونے والے ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم کو شرکت سے دور رکھا اور تین ٹیموں کے اس مقابلے میں بھارت نے ایک بار پھر بازی جیت لی۔ 1995 میں شارجہ نے دوسری مرتبہ ایشیا کپ کی میزبانی کی۔پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو شکست دے کر فائنل تک رسائی کو ممکن بنالیا لیکن اصل کپتان معین خان کے بیمار ہوجانے کے نتیجے میں کپتانی کرنے والے سعید انور کی غیرمؤثر حکمت عملی نے بھارت اور سری لنکا کو رن ریٹ پر فائنل میں لاکھڑا کردیا اور بھارت نے فائنل میں سری لنکا کو ہرا کر ایشیا کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک کرلی۔ 1997ءمیں سری لنکا میں منعقدہ ایونٹ میزبان ٹیم کی جیت پر ختم ہوا جو ایک سال پہلے دنیائے کرکٹ کی عالمی چیمپئن بن چکی تھی۔ ایشیاکپ میں رانا تنگا اور جے سوریا بھرپور فارم میں دکھائی دیے۔ رانا تنگا نے بھارت کے خلاف لیگ میچ میں شاندار سنچری بنائی جبکہ فائنل میں بھارت کے خلاف آٹھ وکٹوں کی جیت میں جے سوریا کے شاندار تراسی رنز نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کا ایشیا کپ جیتنے کا خواب اس وقت حقیقت کا روپ دھارگیا جب 2000ءمیں بنگلہ دیش میں منعقدہ ایونٹ میں معین خان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست رہی۔ فائنل میں پاکستان نے بھارت کو39 رنز سے شکست دی۔ اس ٹورنامنٹ میں محمد یوسف پاکستان کی جیت کا اہم کردار تھے۔ 2004ء میں سری لنکا میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں چھ ٹیمیں شریک تھیں۔ رن ریٹ کو سمجھنے کی غلطی پاکستانی ٹیم کو مہنگی پڑی اور وہ لیگ میچ میں بھارت کو ہرانے کے باوجود فائنل میں نہ پہنچ سکی۔ فائنل سری لنکا اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا اور فتح مرون اتاپتو کامقدربنی۔ اب تک کھیلے گئے آٹھ ایشیا کپ میں بھارت کو سب سے زیادہ چار مرتبہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سری لنکا کی ٹیم تین مرتبہ فاتح بنی ہے اور ایک بار پاکستان نے یہ ایونٹ جیتا ہے۔ سری لنکا نے ایشیا کپ میں سب سے زیادہ30 میچ کھیلے ہیں اور سب سے زیادہ21 میچ جیتے بھی ہیں۔ بھارت نے پندرہ اور پاکستان نے چودہ میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بنگلہ دیشی ٹیم کو ایشیا کپ میں سب سے زیادہ میچوں میں شکست ہوئی ہے وہ اکیس میں سے بیس میچز ہارچکی ہے اور اس نے صرف ایک میچ جیتا ہے۔ ایشیا کپ میں سب سے زیادہ رنز اور سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ ایک ہی
سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز پاکستان کے یونس خان کو حاصل ہے جنہوں نے2004ء میں ہانگ کانگ کے خلاف144 رنز بنائے تھے جب کہ ایشیا کپ کی سب سے بہترین بولنگ19 رنز کے عوض پانچ وکٹ ہے جو1995 ء میں پاکستان کے عاقب جاوید نے بھارت کے خلاف حاصل کی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||