پاک بھارت تعلقات: ایشیا کپ پر اثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھواں ایشیا کپ چار سال کے وقفے کے بعد جمعہ سے سری لنکا میں شروع ہورہا ہے۔ آخری بار اس کا انعقاد جون 2000ء میں بنگلہ دیش میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ایشین کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اشرف الحق نے اعتراف کیا ہے کہ ماضی میں پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کے نتیجے میں ایشیا کپ کے انعقاد میں مشکلات کا سامنا رہا لیکن اب وہ امید کرتے ہیں کہ تعلقات میں بہتری کا فائدہ ایشیائی کرکٹ کو ہوگا اور ایشین کرکٹ کونسل نہ صرف ایشیا کپ بلکہ ایشین ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ بھی منعقد کرسکے گی جو اب تک صرف دو بار ہی ہوسکی ہے۔ پاک بھارت تعلقات معمول پر نہ ہونے کی وجہ سے یہ بھی ہوا کہ پاکستان ٹیم1991ء میں بھارت میں منعقدہ ایشیا کپ میں حصہ نہیں لے سکی اور دو مرتبہ پاکستان کو اس ٹورنامنٹ کی میزبانی اس لئے چھوڑنی پڑی کیونکہ بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آسکتی تھی۔ اس صورتحال میں پاکستان واحد ملک ہے جس نے ابھی تک ایشیا کپ کی میزبانی نہیں کی ہے۔ 1984 اور1995 میں یہ ٹورنامنٹ شارجہ میں ہوا ہے۔ 1988اور2000 میں بنگلہ دیش اس کا میزبان رہا۔ 1991 میں ایشیا کپ بھارت میں کھیلا گیا جبکہ 1986 اور1997 میں سری لنکا نے یہ ٹورنامنٹ منعقد کیا۔ اس طرح سری لنکا تیسری مرتبہ ایشیا کپ کی میزبانی کررہا ہے جس میں چھ ٹیمیں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ شریک ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی ٹیم کو ون ڈے انٹرنیشنل کا محدود تجربہ ہے اور وہ 1996 کاورلڈ کپ کھیل چکی ہے۔البتہ ہانگ کانگ کی ٹیم ون ڈے انٹرنیشنل کا آغاز اسی ٹورنامنٹ میں کررہی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے حالیہ لندن اجلاس میں دونوں ٹیموں کے میچز کو ون ڈے انٹرنیشنل کے ریکارڈز میں شامل کرنے پر اعتراض کیا تھا لیکن اس کا اعتراض مسترد کردیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||