BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 August, 2004, 17:25 GMT 22:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشیا کپ سری لنکا کے نام

سری لنکا کے کھلاڑی خوشی میں جھوم اٹھے
سری لنکا کے کھلاڑی خوشی میں جھوم اٹھے
دنیا کی سب سے مضبوط بیٹنگ لائن کے ستون ایک ایک کرکے گرتے چلے گئے اور سری لنکا نے بولنگ اور فیلڈنگ کے زبردست مظاہرے کے ذریعے ایشیا کپ جیت لیا۔گوکہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا کی ٹیم مقررہ پچاس اوورز میں9 وکٹوں پر228 رنز بناسکی تھی لیکن اس کا جوابی حملہ اتنا مہلک تھا جس نے بھارتی بیٹنگ لائن کو بکھیر کر رکھ دیا اور وہ9 وکٹوں پر صرف203 رنز پر محدود ہوکر یہ فائنل25 رنز سے ہارگئی۔

سوروگنگولی کی ٹیم کے لئے یہ نتیجہ اس لحاظ سے چونکا دینے والا نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اب تک 13 میں سے 10ٹورنامنٹس کے فائنل ہارچکی ہے صرف ایک جیتا ہے جبکہ دو میں وہ کسی ٹیم کے ساتھ مشترکہ فاتح رہی ہے۔

سری لنکا نے تیسری مرتبہ ایشیا کپ جیتا ہے گزشتہ دو کامیابیاں بھی اس نے اپنے ملک میں ہی حاصل کی تھیں۔

سری لنکن ٹیم کے مقررہ پچاس اوورز میں9 وکٹوں پر228 رنز پر محدود رہنے کا سبب بھارت کی عمدہ بولنگ اور فیلڈنگ تھی۔سورو گنگولی کے لئے پریشانی کا صرف ایک موقع اس وقت سامنے آیا جب مرون اتاپتو اور کمار سنگاکارا نے تیسری وکٹ کی شراکت میں116 رنز کا اضافہ کیا ورنہ تمام وقت میزبان بیٹسمین رنز کی تگ ودو میں مصروف رہے۔

پریماداسا اسٹیڈیم میں پرجوش تماشائیوں کے سامنے سری لنکا کو اپنے اوپنرز جے سوریا اور گوناوردھنے سے وہ آغاز نہ مل سکا جو اسے بڑے اسکور تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا۔گوناودھنے کو8 رنز پر نہرا کی گیند پر گنگولی نے کیچ کیا اور اس ٹورنامنٹ میں دو سنچریاں بنانے والے جے سوریا15 رنز بناکرعرفان پٹھان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

اس مرحلے پر کمار سنگاکارا اور کپتان مرون اتاپتو نے تیسری وکٹ کے لئے150 گیندوں پر116 رنز بناکر صورتحال کو سنبھالا دیا لیکن دونوں کے آؤٹ ہونے سے بھارتی ٹیم کو میچ پر گرفت مضبوط کرنے کا موقع مل گیا۔

سنگاکارا53 رنز پر سہواگ کے ہاتھوں بولڈ ہوئے اور اتاپتو کی65 رنز کی اننگز کا خاتمہ بھی سہواگ نے رن آؤٹ کرکے کیا۔ مہیلا جے وردھنے کھاتہ کھولے بغیر سچن تندولکر کی گیند پر یوراج سنگھ کو کیچ دے بیٹھے یوراج نے فیلڈنگ میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے واس کو کیچ کیا اور معروف کو بھی رن آؤٹ کیا۔

سری لنکا کی آخری سات وکٹیں اسکور میں صرف رنز کا اضافہ کرسکیں۔ گنگولی نے اپنے بولرز کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کئے۔ عرفان پٹھان اور سچن تندولکر دو دو وکٹوں کے ساتھ کامیاب بولرز رہے۔

بھارت نے229 رنز کا تعاقب شروع کیا تو اسے ابتدا میں ہی سہواگ اور گنگولی کی وکٹوں سے محروم ہونا پڑا سچن تندولکر اور لکشمن اسکور میں40 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے لیکن لکشمن کی وکٹ گرتے ہی بھارتی ٹیم اکھڑی اکھڑی نظرآئی۔ ڈریوڈ جیسا ٹھنڈے مزاج کا بیٹسمین مختلف روپ میں دکھائی دیا اور صرف16 رنز بناکر چندانا کی گیند پر دلشن کے ہاتھوں سلپ میں کیچ ہوگیا۔ چندانا نے ڈریوڈ کے بعد یوراج سنگھ کو8 رنز پر بولڈ کیا اور محمد کیف کو5 رنز پر جے وردھنے کے ہاتھوں کیچ کراکر بھارت کو مشکل سے دوچار کردیا جس میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب سچن تندولکر بھی اس دباؤ میں اپنی ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑگئے اور74 رنز پر دلشن کی سیدھی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

اختتامی لمحات میں مرلی دھرن کی گیندوں پر ظہیرخان کے دو بلندوبالا چھکے بھارتی شائقین کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لئے کافی نہ تھے۔ سری لنکا کی طرف سے اپل چندانا تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے لیکن بقیہ بولرز کے وار بھی کم مہلک نہ تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد