ایشیا کپ میزبانی پاکستان کرے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سن 2006ء کے ایشیا کپ کی میزبانی کرے گا یہ فیصلہ اتوار کو کولمبو میں ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت جگ موہن ڈالمیا نے کی۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور دیگر اہم معاملات کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگلے ایشیا کپ کی میزبانی پر اصولی اتفاق کرلیا ہے۔ صرف یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ کن تاریخوں میں منعقد ہوگا۔ چونکہ 2006 ء میں بھارت آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی بھی کرنے والا ہے لہذا اس میں اور ایشیا کپ میں خاصا وقفہ ہونا چاہئے تاکہ ایشیا کپ کی دلچسپی برقرار رہے۔ توقع ہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سال کے اواخر میں ہوگی لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ چاہے گا کہ ایشیا کپ سال کے اوائل میں منعقد کیا جائے۔ ایشین کرکٹ کونسل کے سیکرٹری اشرف الحق کے مطابق اگر ایشیا کپ اے سی سی ٹرافی کے بعد ہوتا ہے تو اس کی دو فائنلسٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اے سی سی ٹرافی سے پہلے ایشیا کپ منعقد ہونے کی صورت میں اس سال کی اے سی سی ٹرافی کی فائنلسٹ ٹیمیں متحدہ عرب امارات اور اومان ایشیا کپ میں حصہ لیں گی۔ شہریار خان نے بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ ایشیا کپ کی آمدنی کا ساٹھ فیصد حصہ چار ٹیسٹ رکن ممالک پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں تقسیم ہوگا جبکہ بقیہ چالیس فیصد حصہ ایسوسی ایٹ ممالک کو ملے گا۔ شہریار خان کے مطابق ایشین ٹیسٹ کرکٹ چیمپئن شپ کے انعقاد کو فی الحال تمام ٹیموں کی بے پناہ مصروفیات کے سبب مؤخر کردیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ انہوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر جگ موہن ڈالمیا اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو دلیپ مینڈس سے بھی دوطرفہ کرکٹ سیریز پر بات کی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم آئندہ سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے بھارت جائے گی اس بارے میں شہریار خان نے بتایاکہ جگ موہن ڈالمیانے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے صلاح مشورے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹور پروگرام بھیج دیں گے۔ توقع ہے کہ یہ دورہ فروری اور اپریل کے درمیان ہوگا۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کہتے ہیں کہ دونوں کرکٹ بورڈز چاہتے ہیں کہ پاکستان زمبابوے اور سری لنکا کے درمیان سہ فریقی ون ڈے سیریز کے ساتھ ہی پاکستان اور سری لنکا ٹیسٹ سیریز بھی کھیلنے میں کامیاب ہوسکیں لیکن اس کاامکان اس لیے کم ہے کیونکہ سری لنکا کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنا ہے اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ سے ٹور پروگرام پر نظرثانی کی درخواست کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||