BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 June, 2008, 21:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی لاسن سے ناخوش

جیف لاسن(فائل فوٹو)
صحافیوں کو ماضی میں بھی لاسن سے شکایت رہی ہے
صحافیوں نے اتوار کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا۔

سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد جیف لاسن کپتان شعیب ملک کی جگہ پریس کانفرنس میں آئے۔

پریس سے مطالبہ
 ’اس سے پہلے کہ پریس کانفرنس شروع ہو کچھ قواعد وضوابط طے کر لئے جائیں۔ صحافی حضرات تبصرے نہ کریں صرف سوال کریں۔ اگر کسی نے دو مرتبہ سوال کیا تو میں اس کا جواب نہیں دوں گا۔ اس کے علاوہ آپ لوگ عقلمندی کے سوال کریں ورنہ اس کا بھی جواب نہیں دوں گا
لاسن
انہوں نے صحافیوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے پہلے کہ پریس کانفرنس شروع ہو کچھ قواعد وضوابط طے کر لئے جائیں۔ صحافی حضرات تبصرے نہ کریں صرف سوال کریں۔ اگر کسی نے دو مرتبہ سوال کیا تو میں اس کا جواب نہیں دوں گا۔ اس کے علاوہ آپ لوگ عقلمندی کے سوال کریں ورنہ اس کا بھی جواب نہیں دوں گا‘۔

جیف لاسن کے جواب میں ایک صحافی نے ان سے کہا کہ کیا وہ صحافیوں کو ڈکٹیٹ کرائیں گے کہ وہ کیا پوچھیں اور کیا نہ پوچھیں؟ جس پر لاسن نے کہا کہ وہ انگریزی میں ان سے بات کریں۔

یہ کہہ کر لاسن کرسی سے اٹھے اور ایک اور صحافی کے قریب جاکر ان کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں مخاطب ہوئے ’اگر آپ مجھ سے سخت رویہ رکھیں گے تو میں سوال کا جواب نہیں دوں گا‘۔

صحافیوں نے اس صورتحال کو ناقابل برداشت اور نامناسب قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد