BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوچ کی تقرری: کرکٹرز کا ملا جلا رد عمل

جیف لاسن (فائل فوٹو)
جیف لاسن کے کوچ بننے پر موجودہ ٹیم کے کھلاڑی تو خوش ہیں لیکن سابق کرکٹرز کی رائے مختلف ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹرز سابق آسٹریلوی فاسٹ بالرجیف لاسن کی بطور کوچ تقرری کو ایک اچھا فیصلہ قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب کچھ سابق ٹیسٹ کرکٹرز اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں۔

کافی دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان کی ٹیم ڈیو واٹمور کی بجائے جیف لاسن کو کوچ بنانے کے حق میں ہے اور ان کی خواہش پوری ہوئی اور جیف لاسن کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔

پاکستان کی ٹیم کے کپتان شعیب ملک کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ سب کی رائے کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے اور کھلاڑی اس فیصلے پر بہت خوش ہیں اور جیف لاسن کی کوچنگ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پر عزم ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ جیف لاسن جنہیں بین الاقوامی کوچنگ کا کوئی خاص تجربہ نہیں اور آسٹریلوی ٹیم میں وہ فاسٹ بالر تھے کیا پاکستان کی ٹیم کے بیٹسمینوں کی خامیوں کودرست کر سکیں گے؟

ڈیوواٹمور کو کوچ رکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ ان کا بین الاقوامی ٹیموں کی کوچنگ کرنے کا کافی تجربہ ہے جبکہ جیف لاسن کا تجربہ صرف نیو ساؤتھ ویلز کی ٹیم تک محدود ہے
سابق کوچ اور کپتان انتخاب عالم

شعیب ملک کا جواب تھا کہ جب کوئی بیٹسمین قومی ٹیم میں پہنچ جاتا ہے تو اسے بیٹنگ میں تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ کوئی کھلاڑی اگر بری فارم میں آ جائے تو ساتھی کھلاڑی اس کی مدد کر دیتے ہیں اور جہاں تک کوچ کا تعلق ہے اس کا کام گیم پلان تیار کرنا ہے اور ان کے خیال میں جیف لاسن اس ضمن میں بہتر ثابت ہوں گے۔

جیف لاسن کے کوچ بننے پر موجودہ ٹیم کے کھلاڑی تو خوش ہیں لیکن تجربہ کار سابق کرکٹرز کی رائے اس سے مختلف ہے۔

پاکستان کے عظیم بلے باز ظہیر عباس جنہوں نے ٹیسٹ میچوں میں پانچ ہزار سے زائد رنز بنائے ہیں اور باب وولمر کے وقت وہ انتظامیہ کا حصہ تھے۔ کوچ کی تقرری کے بارے میں آسٹریلوی ذرائع ابلاغ میں اپنی تقرری کے بارے میں بات کرنے پر ظہیر عباس نے خفگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بورڈ پہلے ہی کسی فیصلے پر پہنچ چکا تھا تو حتمی میٹنگ کی کیا ضرورت تھی۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس عہدے پر پاکستان کرکٹ سکواڈ کی کسی سابق کھلاڑی کا انتخاب ہونا چاہیے تھا۔

جاوید میاں داد کا کہنا تھا کہ کیا غیر ملکی کوچ گارنٹی دے سکتا ہے کہ اس کی کوچنگ میں ٹیم ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھائے گی

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بوب وولمر کے ساتھ بطور مینیجر کے کام کیا ہے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کھلاڑی بھی اتنے ہی اچھے ہیں۔

سابق کوچ اور کپتان انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اگر ڈیوواٹمور کو کوچ رکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ ان کا بین الاقوامی ٹیموں کی کوچنگ کرنے کا کافی تجربہ ہے جبکہ جیف لاسن کا تجربہ صرف نیو ساؤتھ ویلز کی ٹیم تک محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیو واٹمور اس خطے کے کھلاریوں کے مزاج اور روایات سے واقف تھے اور کھلاڑیوں کی نفسیات جانتے تھے جبکہ جیف لاسن کو کھلاڑیوں کے مزاج سے واقف ہوتے ہوتے ایک سال لگ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جیف لاسن کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ پاکستان کی ٹیم کے لیے عزت حاصل کریں۔

پاکستان کی ٹیم کے ایک اور سابق کوچ اور کپتان ماضی کے شاندار بیٹس مین جاوید میاں داد تو سرے سے ہی غیر ملکی کوچ کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک غیر ملکی کوچ سے پاکستانی کوچ کی طرح حب الوطنی اور قومی جذبے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔

جاوید میاں داد کا کہنا تھا کہ کیا غیر ملکی کوچ گارنٹی دے سکتا ہے کہ اس کی کوچنگ میں ٹیم ہمیشہ اچھی کارکردگی دکھائے گی اگر نہیں تو یہ صرف پیسے ضائع کرنا ہو گا۔

ٹیم کے لیے حکمت عملی تیار کرنے میں لاسن کار آمد ہو سکتے ہیں: توقیر

ان سابق کرکٹرز کی رائے سے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹینٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے خیال میں پاکستان کی ٹیم کا کوچ پاکستانی ہی ہونا چاہیے تھا لیکن چونکہ کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے تو جیم لاسن کی حمایت کرنی چاہیے اور ان پر تنقید نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اگر ان پر اس طرح تنقید کی گئی تو وہ بہتر طور پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ جیف لاسن کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔

اپنی بھر پور حمایت کے باوجود سابق چئرمین نے تسلیم کیا کہ جیف لاسن بیٹنگ کے شعبے میں کھلاڑیوں کی زیادہ مدد نہیں کر سکیں گے جبکہ پاکستان کی ٹیم کو اسی شعبے میں بہتری کی ضرورت ہے۔ البتہ ٹیم کے لیے حکمت عملی تیار کرنے میں لاسن کار آمد ہو سکتے ہیں۔

جیف لاسن کی تقرری کتنا درست فیصلہ ہے اور کتنا غلط یہ تو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کیونکہ آئندہ چند ماہ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سمیت آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور بھارت جیسی بڑی ٹیموں کے ساتھ سیریز کھیلنی ہے جو جیف لاسن کے لیے ایک کڑا امتحان ہو گی۔

جیف لاسن لاسن کا کڑا امتحان
نئے پاکستانی کوچ کو کئی بڑے کام کرنے ہیں
جیف لاسن ’میں ہوں نیا کوچ‘
پی سی بی نے کوچنگ کے لیے لاسن کا انتخاب کر لیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد