نئے آسٹریلوی کوچ کی مشکل انگریزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے نئے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کی بات سمجھنے میں پاکستان کی ٹیم کو کچھ دشواری کا سامنا ہے۔ جیف لاسن انگریزی زبان کافی تیز لہجے میں بولتے ہیں اور ان کی پہلی پریس کانفرنس میں کچھ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی کہتے سنا گیا کہ ان کے تیز بولنے کے سبب ان کی بات سمجھنے میں مشکل پیش آئی اور ایسی ہی مشکل کا سامنا ہے پاکستان کی ٹیم کو، جس کے کئی کھلاڑی انگریزی زبان سے بھی نابلد ہیں۔ پاکستان کی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ ہارون رشید کا کہنا ہے کہ خود لاسن کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ تیز بولتے ہیں جس کے سبب کھلاڑی ان کی بات نہیں سمجھ پا رہے تاہم وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ذرا ٹھہر ٹھہر کر بات کریں تاکہ ان کی بات سمجھی جا سکے۔
ہارون رشید نے کہا کہ آسٹریلوی انگریزی کا لہجہ ذرا مختلف ہے جبکہ باب وولمر چونکہ لندن میں رہے تھے اس لیے ا ن کی انگریزی کا لہجہ کچھ اور تھا لیکن پھر بھی آغاز میں انہیں سمجھنے میں بھی کھلاڑیوں کو مشکل پیش آئی تھی۔ ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ نے بتایا کہ جب جیف لاسن گروپ سے بات کرتے ہیں تو زیادہ تیز بول جاتے ہیں لیکن جب ایک ایک کھلاڑی سے بات کرتے ہیں تو کھلاڑی ان کی بات کو سمجھ لیتے ہیں۔ ہارون رشید نے کہا کہ آج عمران نزیر اور محمد حفیظ ان سے بات کرتے رہے اور ان کے درمیان کافی اچھی بات چیت رہی۔ ہارون رشید پرُ امید تھے کہ بہت جلد کھلاڑی جیف لاسن کے لہجے سے شناسا ہو جائیں گے تو یہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے کئی سابق کھلاڑیوں نے غیر ملکی کوچ کی مخالفت اسی لیے کی تھی کہ پاکستان کی ٹیم کے اکثر کھلاڑی انگریزی زبان نہیں سمجھتے۔ | اسی بارے میں ٹیم کوجارحانہ انداز اپنانا ہوگا: لاسن21 August, 2007 | کھیل ٹیم کی فٹنس کے لیے بھی کوچ18 August, 2007 | کھیل لاسن 20 اگست کو پاکستان میں02 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||