’کوچنگ کی آفر پر غور کروں گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے پاکستان کی ٹیم کی کوچنگ کی پیشکش ہوئی تو وہ اپنی ٹی وی چینلز کی مصروفیت کو دیکھ کر اس پر غور کریں گے۔ وسیم اکرم نے پیر سے قذافی سٹیڈیم میں شروع ہونے والے نوجوان فاسٹ بالرز کے لیے لگائے گئے کیمپ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پاکستان کی خدمت کے لیے ہر وقت دستیاب ہوں اور مجھے پاکستان نے جو عزت دی ہے میں اسے اسی طرح لوٹا سکتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سیکھا ہے نوجوانوں کو سکھاؤں۔‘ وسیم اکرم نے کہا کہ جیف لاسن کا پاکستان کی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ریکارڈ کے مطابق تو یہ زبردست لگتا ہے کیونکہ ان کی کوچنگ میں لگاتار گیارہ ون ڈے میچوں میں جو زمبابوے اور بنگلا دیش کے خلاف تھے پاکستان نے فتح حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چھ جون کو بنگلا دیش جانا ہے لیکن لاسن تین جون کو آ رہے ہیں۔ کسی بھی کھیل میں کوچ اگر کسی دورے سے دو دن پہلے آئے گا تو وہ حکمت عملی تیار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کوچ کی ٹیم کے ساتھ وابستگی ملکی کوچ سے کم یا زیادہ ہے اس کا تعین کرنا کرکٹ بورڈ کا کام ہے لیکن کیونکہ کوچ پیشہ ور ہوتا ہے لہذا وہ لگن کے ساتھ ہی کام کرتا ہے۔ آج کل خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جیف لاسن سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ نہیں کروانا چاہتا جبکہ متوقع کوچز میں وسیم اکرم کا نام سر فہرست ہے۔ پاکستان کے نوجوان فاسٹ بالرز کے کیمپ میں پہلے دن کوچنگ کرنے کے بعد وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان میں اس شعبے میں بہت اہلیت ہے اور ضرورت ہے کہ اس اہلیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے ان کی تربیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں کافی باصلاحیت نوجوان ہیں لیکن ان کی صلاحیت کا صحیح اندازہ وہ کچھ دن بعد لگائیں گے لیکن وہ اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کا فاسٹ بالنگ کے شعبے میں مستقبل تابناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھے بالر کو اچھا فیلڈر بھی ہونا چاہیے اور بالر میں قدرتی صلاحیت ہوتی ہے جسے وہ بہتر کر سکتا ہے جبکہ فیلڈنگ کرنے سے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں بالنگ کے ساتھ فیلڈنگ کی پریکٹس بھی کروائی جائے گی۔ وسیم اکرم نے کہا کہ آئی پی ایل میں جو ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ ہو رہی ہے یہ صرف لطف اندوز ہونے کے لیے ہے اور یہ اصل کرکٹ نہیں اصل کرکٹ تو ٹیسٹ یا ایک روزہ کرکٹ ہے۔ وسیم اکرم نےآئی پی ایل کی طوالت پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ انہیں اس ٹورنامنٹ کو چھوٹا کرنا چاہیے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں کسی خاص کارکردگی نہ دکھا سکنے کے ضمن میں وسیم اکرم نے کہا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو صحیح موقع نہیں دیا گیا اور یہ کہنا کہ پاکستانی کھلاڑی ناکام ہوئے درست نہیں۔ انہیں جب بھی موقع ملا انہوں نے کاکردگی دکھائی۔ وسیم اکرم نے خاص طور پر سہیل تنویر کی کارکردگی کو سراہا کہ انہوں نے ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں عالمی ریکارڈ بنایا ہے جو بہت زبردست ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل تنویر کو ذہنی طور پر مزید توانا ہونا چاہیے اور اس کا اصل ہدف لمبے عرصے کے لیے پاکستان کے لیے کھیلنا ہونا چاہیے اور اس کے لیے اسے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وکٹیں لینی پڑیں گی۔ پاکستان میں جون میں ہونے والے ایشیاء کپ کے لیے انہوں نے بھارت کی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں بھی اچھی ہیں اور انہی تینوں میں سے کوئی فاتح ہو گی۔ وسیم اکرم نےحال ہی میں ایک ٹی وی اشتہار میں کام کیا۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا انہیں فلموں کی پیشکش ہوئی اور کیا وہ فلموں میں کام کرنا پسند کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کام انہوں نے شعیب اختر کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ | اسی بارے میں ضروری نہیں کہ آسٹریلیا فائنل جیتے10 September, 2004 | کھیل پی سی بی نے رابط نہیں کیا: وسیم21 February, 2005 | کھیل وسیم اکرم کے خلاف مقدمہ ختم 24 May, 2005 | کھیل جاندار وکٹیں بنائیں: وسیم اکرم30 December, 2005 | کھیل ’غیر ضروری دفاعی کھیل ٹھیک نہیں‘20 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||