’غیر ضروری دفاعی کھیل ٹھیک نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور فاسٹ بالر وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ غیر ضروری دفاعی حکمت عملی کے سبب پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی کا گراف بدستور گر رہا ہے۔ سابق کپتان نے بار بار بیٹنگ آڈر بدلنے کو منفی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ہے لیکن بار بار بیٹنگ آڈر میں تبدیلی اور خود اعتمادی کی کمی کے سبب ٹیم کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ وسیم اکرم نے کہا کہ یونس خان کو نمبر تین پر نہ کھلانے کی وجہ ان کی سمجھ سے تو بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ہی پاکستان کی ٹیم کو اپنا بیٹنگ آڈر سیٹ کر لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق کی فارم کا بہتر ہونا اور ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرنا خوش آئند ہے۔ وسیم کا مشورہ تھا کہ پاکستان کی ٹیم کو سری لنکا کے خلاف اگلے میچ میں دفاعی حکمت عملی سے گریز کرنا چاھیے تاکہ زیادہ بہتر کارکردگی دکھا کر جامع فتح حاصل کر سکے۔ سابق فاسٹ بالر نے کہا کہ شعیب اختر کے نہ ہونے سے ٹیم کا بیلنس خراب ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شعیب جیسا بالر ٹیم کی اشد ضرورت ہے اور اب جبکہ وہ ان فٹ ہے تو ہمیں اس کی بھر پور سپورٹ کرنی چاھیے تاکہ وہ جلد فٹ ہو کر ملک کی نمائندگی کر سکے۔ اپنے ہم عصر وقار یونس کے بطور بالنگ کوچ تقرری کو انہوں نے درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیم کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو وقار کے تجربے سے استفادہ ہو گا اور فاضل رنز کی تعداد بھی کم ہو گی۔ وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں ٹیم کے کوچ بننے کی ضرورت نہیں میرا فرض ہے کہ مجھے جب وقت ملے میں پاکستانی بالرز کو سکھاؤں اور مفید مشورے دوں اور میں اکثر ایسا کرتا بھی ہوں۔ | اسی بارے میں ’موجودہ ٹیم بہتر ہے‘ | کھیل ضروری نہیں کہ آسٹریلیا فائنل جیتے10 September, 2004 | کھیل ستمبر میں پہلے بیٹنگ ٹھیک نہیں12 September, 2004 | کھیل وسیم اکرم کا آخری معرکہ | کھیل جاندار وکٹیں بنائیں: وسیم اکرم30 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||