ضروری نہیں کہ آسٹریلیا فائنل جیتے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی کرکٹ ٹرافی ٹورنامنٹ کے سلسلے میں ہفتے کے روز بھارت اور کینیا کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جا رہا ہے۔ بلاشبہ کینیا کی ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن منگل کو کھیلے جانے والے میچ میں کسی اپ سیٹ کا امکان نہیں ہے۔ بھارت کینیا سے ایک میچ ہار چکی ہے اس لیے وہ مزید محتاط ہو کر کھیلے گی اور اس لیے یہ میچ یکطرفہ ہو گا۔ پاکستان کی ٹیم زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لیے اسے مزید پختہ اور پر اعتماد ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ امید ہے کہ انضمام اور یوسف یوحنا بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔ پاکستان کے بولر گزشتہ چھ ماہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے ہیں۔ پاکستان کے بولر بلاشبہ ٹیلنٹڈ ہیں لیکن محمد سمیع جو خاصے تیز بولر ہیں وہ گزشتہ چند میچوں میں اپنے ہر سپیل میں پچاس رن ضرور دے رہے ہیں۔ دنیا کے تیز ترین بولر شعیب نے بھی پچھلے ہی میچ میں دس اوور میں ستر رن دیئے۔ اس اعتبار سے پاکستان کے تیز بولنگ اس وقت بظاہر نام ہی کی رہ گئی ہے اور پاکستانی بولروں کو مستقل مزاجی کی بہت ضرورت ہے تاکہ مخالف ٹیموں کا رن ریٹ روکا جا سکے۔ آسٹریلیا کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بھی صحیح طور سے ہاٹ فیورٹ تصور کی جا رہی ہے لیکن آئی سی سی ٹورنامنٹ اس لحاظ سے مختلف رہے گا کہ کوئی بھی ٹیم صرف ایک میچ ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گی۔ اس تناظر میں آسٹریلیا کا فائنل جیتنا لازمی نہیں رہتا۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بھی فائنل جیت سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||