BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ضروری نہیں کہ آسٹریلیا فائنل جیتے

پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم
پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم
آئی سی سی کرکٹ ٹرافی ٹورنامنٹ کے سلسلے میں ہفتے کے روز بھارت اور کینیا کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جا رہا ہے۔ بلاشبہ کینیا کی ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے خاصی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن منگل کو کھیلے جانے والے میچ میں کسی اپ سیٹ کا امکان نہیں ہے۔

بھارت کینیا سے ایک میچ ہار چکی ہے اس لیے وہ مزید محتاط ہو کر کھیلے گی اور اس لیے یہ میچ یکطرفہ ہو گا۔

پاکستان کی ٹیم زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لیے اسے مزید پختہ اور پر اعتماد ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ امید ہے کہ انضمام اور یوسف یوحنا بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔

پاکستان کے بولر گزشتہ چھ ماہ میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے ہیں۔

پاکستان کے بولر بلاشبہ ٹیلنٹڈ ہیں لیکن محمد سمیع جو خاصے تیز بولر ہیں وہ گزشتہ چند میچوں میں اپنے ہر سپیل میں پچاس رن ضرور دے رہے ہیں۔

دنیا کے تیز ترین بولر شعیب نے بھی پچھلے ہی میچ میں دس اوور میں ستر رن دیئے۔ اس اعتبار سے پاکستان کے تیز بولنگ اس وقت بظاہر نام ہی کی رہ گئی ہے اور پاکستانی بولروں کو مستقل مزاجی کی بہت ضرورت ہے تاکہ مخالف ٹیموں کا رن ریٹ روکا جا سکے۔

آسٹریلیا کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بھی صحیح طور سے ہاٹ فیورٹ تصور کی جا رہی ہے لیکن آئی سی سی ٹورنامنٹ اس لحاظ سے مختلف رہے گا کہ کوئی بھی ٹیم صرف ایک میچ ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گی۔

اس تناظر میں آسٹریلیا کا فائنل جیتنا لازمی نہیں رہتا۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بھی فائنل جیت سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد