کرکٹ کا منی ورلڈ کپ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی جمعہ سے انگلینڈ میں شروع ہو رہی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو اس لئے بھی منی ورلڈ کپ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے تمام دس ممالک کے علاوہ ون ڈے انٹرنیشنل کا سٹیٹس رکھنے والی کینیا اور امریکہ کی ٹیمیں بھی شریک ہیں۔ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں شریک ٹیموں کو چار گروپ میں رکھا گیا ہے۔ ہر گروپ سے ایک ٹیم سیمی فائنل میں پہنچےگی۔ اس اعتبار سے یہ توقع کی جا سکتی ہے ہر گروپ میں ہی کانٹے دار مقابلے ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں ہیں اور یہی صورتحال نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے بھی درمیان ہے۔ ٹورنامنٹ کا میزبان انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں بھی ایک ہی گروپ میں ہیں اس لئے ان میں سے ایک ٹیم کو واپسی اختیار کرنی ہوگی۔ آسٹریلیا حریف ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے لیکن ہالینڈ کے فائنل اور پھر لارڈز میں جس طرح پاکستان نے آسٹریلیا کی جیت کو مشکل بنا دیا، اس لحاظ سے باب وولمر کی ٹیم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ جیت کے قریب آ کر اس سے دور ہو جانا ہے۔ ہالینڈ اور آسٹریلیا کے دونوں میچوں میں پاکستانی بیٹسمینوں خصوصاً یوسف یوحنا کی غیر ذمہ داری ٹیم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ نہ صرف یہ بلکہ امپائر ڈیوڈ شیپرڈ کے دو فیصلے بھی انتہائی منفی نتائج مرتب کر گئے۔ عام خیال یہی ہے کہ پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے نفسیاتی برتری حاصل رہے گی کیونکہ اس نے پہلے ایشیا کپ اور پھر ہالینڈ میں بھارت کو شکست دی ہے جبکہ بھارتی ٹیم جسے اس وقت سچن تنڈولکر کی خدمات حاصل نہیں ہیں انگلینڈ کے خلاف چند روز قبل تیسرا ون ڈے جیتنے کے باوجود سیریز دو ایک سے ہار چکی ہے۔ آَسٹریلوی ٹیم کو اپنے گروپ میں نیوزی لینڈ سے کھیلنا ہے جس نے حالیہ انگلش سیزن میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مقابلے پر سہ فریقی سیریز جیتی ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم کے لئے یہ سیزن ٹیسٹ میچوں کے اعتبار سے بہت شاندار رہا ہے اور اس نے تمام سات ٹیسٹ میچ جیتے ہیں لیکن ون ڈے میں مائیکل وان زیادہ کامیاب کپتان ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ انگلینڈ کے لئے زمبابوے کی ٹیم ترنوالہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن سری لنکا نہیں جس نے ایشیا کپ جیتنے کے بعد جنوبی افریقہ کو بھی اپنے میدانوں پر شکست دی تھی۔ جنوبی افریقہ کو اعتماد کی بحالی کے لئے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کو شکست دینی ہو گی۔ ٹورنامنٹ کے پہلے روز دو میچ کھیلے جائیں گے۔ ایجبسٹن میں انگلینڈ کا مقابلہ زمبابوے سے ہوگا اور اوول کے میدان پر نیوزی لینڈ کا سامنا پہلی بار ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والی امریکی ٹیم سے ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||