بھارت، سری لنکا اور ایشیا کپ فائنل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھارت اور سری لنکا مدمقابل ہیں۔ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ میں دو مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ پہلے مرحلے میں سری لنکا نے سخت مقابلے کے بعد بارہ رنز سے بازی جیتی تھی جبکہ دوسرے مرحلے کے اہم میچ میں بھارت نے چار رنز سے کامیابی حاصل کر کے نہ صرف فائنل تک رسائی حاصل کر لی بلکہ یہ فتح پاکستان کوفائنل سے باہر کرنے کا سبب بھی بنی۔ فائنل کے لئے دونوں کپتان مرون اتاپتو اور سورو گنگولی پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ اتاپتو کا اطمینان اس لئے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ چمنداواس اور متایا مرلی دھرن سری لنکا کی ٹیم میں شامل ہیں۔ یہ دونوں بھارت کے خلاف آخری لیگ میچ نہیں کھیلے تھے۔ اس کے علاوہ سری لنکا کے کپتان کو اپنے سینیئر بیٹسمین سنتھ جے سوریا کی زبردست فارم میں واپسی پر بھی خوشی ہے جو اس ٹورنامنٹ میں دو سنچریاں بنا کرمایوسی کے گرداب سے نکل آئے ہیں۔ یہی تینوں کرکٹرز فائنل میں اتاپتو کی سب سے بڑی امید ہیں اور انہیں ایشیا کپ جیتنے والا تیسرا سری لنکن کپتان بنا سکتے ہیں۔
سری لنکا نے 1986 میں دلیپ مینڈس اور1997 میں راناتنگا کی قیادت میں ایشیا کپ جیتا تھا۔ اس نےدونوں کامیابیاں اپنی سرزمین پر حاصل کی تھیں۔ بھارت چار مرتبہ ایشیا کپ جیت چکا ہے۔ بھارتی ٹیم مضبوط بیٹنگ لائن اور متوازن بولنگ پر مشتمل ہے۔ کپتان سوروگنگولی کو اس ٹورنامنٹ میں مڈل آرڈر بیٹسمین وی وی ایس لکشمن اور فاسٹ بولر ظہیرخان کی فٹنس سے پریشانی رہی ہے۔ فائنل سے قبل آخری ٹریننگ سیشن میں وی وی ایس لکشمن نے حصہ لیا ہے جبکہ ظہیرخان کو گنگولی نے سری لنکا کے خلاف آخری لیگ میچ میں اشیش نہرا کی جگہ موقع دیا تھا۔ فائنل کے لئے گنگولی کو یہ مشکل فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ظہیرخان اور اشیش نہرا میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ فائنل کے لئے دونوں ٹیموں کے پرستار پرجوش نظر آتے ہیں۔ بھارت سے بڑی تعداد میں شائقین کولمبو آئے ہیں جبکہ مقامی شائقین ملکی ٹیم کی جیت کے لئے بےتاب ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||