بونس پوائنٹس: اب انضمام بھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کو اس بات کا افسوس ہے کہ ان کی ٹیم ایشیا کپ سے باہر ہوگئی لیکن اس افسوس کی وجہ وہ ٹیم کی کارکردگی کو نہیں بلکہ ایشیا کپ کے بونس پوائنٹس کو قراردیتے ہیں۔ پاکستان ٹیم نے اتوار کو بھارت کو 59 رنز سے شکست دی تھی لیکن چونکہ وہ بونس پوائنٹ حاصل نہیں کرسکی تھی لہذا وہ پوائنٹ بھارتی ٹیم لے اڑی۔ انضمام الحق اس پوائنٹس سسٹم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس طریقۂ کار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہارنے والی ٹیم کو کس بات کا بونس پوائنٹ دیاجائے؟ انہوں نے کہا کہ اپنے کریئر میں وہ پہلی مرتبہ اس قسم کے قانون سے آشنا ہوئے ہیں کہ ہارنے والی ٹیم کو بونس پوائنٹ دے دیا جائے۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ اس طرح کے پوائنٹس سسٹم سے غلط فہمیاں ہی جنم لیتی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ بھارت کے خلاف میچ میں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہ گئے کہ بھارت کو چالیس اوورز میں241 رنز اسکور کرکے بونس پوائنٹ لینا تھا۔ وہ کہتے ہیں یہ بات ان پر واضح تھی کہ پچاس اوورز میں یہ اسکور کرکے بھارتی ٹیم کو بونس پوائنٹ ملنا ہے۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ بھارت کو اس سے روکا جائے لیکن آخری اوور میں چوکا لگنے اور رن آؤٹ کی کوشش ناکام ہونے کے نتیجے میں بھارتی ٹیم بونس پوائنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی پاکستان ٹیم کو اس مرحلے پر زیادہ محنت کرنی تھی۔ انضمام الحق کو سری لنکا اور بھارت کے میچ کے نتیجے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سری لنکن ٹیم میچ کے فیصلہ کن مرحلے پر آ کر شکست سے دوچار ہوگئی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ میں ان کی ٹیم کی کارکردگی بری نہیں رہی سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد جس طرح اس نے بھارت کوہرایا وہ خوش آئند بات ہے۔ ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں نے محنت کی، نوجوان شعیب ملک نے غیرمعمولی کارکردگی دکھائی البتہ انہیں ایک آل راؤنڈر کی کمی محسوس ہوئی۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ کے بارے میں انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ اس میچ کو آسان نہیں سمجھتے اور بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||