پاکستان پوائنٹ سسٹم سے ناخوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ایشیا کپ کے دوران رائج بونس پوائنٹس سسٹم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ اس کے سبب پاکستان کے بھارت کو شکست دینے کے باوجود ایشیا کپ کے فائنل تک نہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے نو وکٹوں کے نقصان پر تین سو رن بنائے تھے جس کے جواب میں بھارت کو ایک پؤائنٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو سو چالیس رن بنانا تھے۔ بھارت کی اننگز کے آخری اوور کی آخری گیند پر انیل کمبلے نے چوکا لگا کر مجموعی سکور دو سو اکتالیس تک پہنچا دیا۔ پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ ’بونس پوائنٹ حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ سکور مجموعی ہدف کے مزید قریب ہونا چاہیے۔‘ پاکستان اور بھارت ایشیا کپ ٹورنامنٹ کے دوسرے مرحلے میں ایک ایک میچ جیت چکے ہیں لیکن بھارت ایک بونس پوائنٹ حاصل کرنے کے بعد پاکستان سے بہتر پوزیشن میں آ گیا ہے۔ منگل کے روز اگر بھارت سری لنکا کو شکست دے دیتا ہے تو فائنل میں اس کا مقابلہ پھر سری لنکا سے ہی ہو گا باوجود اس کے کہ اگر پاکستان بنگلہ دیش کو بڑے مارجن سے ہرانے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ بھارتی کپتان سورو گنگولی نے کہا کہ ’جب ہم نے اننگز کا آغاز کیا تو ہم میچ جیتنا چاہتے تھے کیونکہ ٹیم متعدد بار تین سو رن چیز کر چکی ہے لیکن جب بھارت کے پانچ کھلاڑی ایک سو ساٹھ رن پر آؤٹ ہو گئے تو ہم نے دو سو چالیس رن کو اپنا ہدف بنا لیا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||