’ایسا کیوں ہوا‘ وولمر سٹپٹا گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیا کپ میں سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر نے پاکستانی بیٹسمینوں کی کارکردگی پر سخت مایوسی ظاہر کرتے ہوئے اسے غیرذمہ دارنہ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی ٹیم سری لنکا کے خلاف اپنے سب سے کم سکور122 پر آؤٹ ہوکرمیچ 7 وکٹوں سے ہارگئی تھی۔ بحیثیت کوچ یہ باب وولمر کا پہلا بڑا امتحان تھا وہ جاوید میانداد کی جگہ پاکستان ٹیم کے کوچ بنائے گئے ہیں۔ پاکستان نے بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ کی کمزور ٹیموں کے خلاف میچز باآسانی جیت لئے تھے۔ لیکن سری لنکا سے میچ ہارنے کے بعد پاکستانی کوچ افسردہ نظرآرہے تھے اور وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنے ہاتھ سے وکٹیں گنوائیں۔ انہوں نے ہربیٹسمین کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ کپتان انضمام الحق لیگ سائڈ پر بال کو’ کک‘ مار کر گیند کو ووکٹوں میں لے آئے اور بولڈ ہوگئے۔ یونس خان شاٹ کھیلنے میں جلدی کرگئے۔عمران نذیر سلپ میں کیچ پریکٹس کرانےکے انداز میں آؤٹ ہوئے۔ وولمر کا کہنا ہے کہ وہ اس سوال کاجواب معلوم کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ یوسف یوحنا کے بارے میں پاکستان ٹیم کے کوچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی یہ منظرنہیں دیکھا کہ بیٹسمین سلی پوائنٹ پرگیند کھیل کر رن بنانے کے لئے بھاگاہو۔باب وولمر کہتے ہیں کہ ایشیا کپ کے لئے ٹیم کی تیاری اچھی تھی لیکن اب غلطیاں تلاش کرکے انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
وولمر کا کہنا ہے کہ اس وکٹ پر دوسو رنز اچھا سکور ہوسکتاتھا۔پاکستانی بولرز نےاچھی بولنگ کی تاہم وہ ایکسٹرا رنز کی بھرمار سے خوش نہیں تھے۔ان کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے ایک بونس پوائنٹ لینے کے بعد پاکستان ٹیم کے لئے دو پوائنٹس کے ساتھ دونوں میچ جیتنا ضروری ہوگیا ہے۔ مبصرین کے مطابق باب وولمر کوسری لنکا کے خلاف میچ کے نتیجے پر حیرت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ پاکستان ٹیم کی غیرمستقل مزاجی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے جب کوچ کا عہدہ قبول کیا تھا یقینا انہوں نے تمام ہی پہلوؤں پر غورکیاہوگا۔ انہیں یہ بات بھی اچھی طرح معلوم تھی کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ زبان کا مسئلہ ہے گو ٹیم منیجر ہارون رشید مترجم کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||