ذمہ داری بڑھ گئی ہے: شعیب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر جن حالات سے گزر کر ایشیا کپ کھیلنے والی ٹیم میں شامل ہوئے تھے وہ ان کے لئے بہت کٹھن تھے۔ بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ان کے خلاف دیئے گئے بیانات کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے۔ لیکن اب شعیب اختر یہ واقعات پسِ پشت ڈال کر مستقبل پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ نئے کوچ باب وولمر کے ساتھ دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں شعیب اختر خود کو زیادہ پرسکون اور مطمئن محسوس کرتے ہیں جس کا برملا اظہار انہوں نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بھی کیا ہے۔ شعیب اختر یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ایشیا کپ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان پانچ میں سے صرف ایک میچ ہارا۔ مضحکہ خیز بونس پوائنٹ کے طریق کار نے اسے فائنل کھیلنے سے محروم کر دیا اور ہارنے والی بھارتی ٹیم اس بونس پوائنٹ کی بدولت فائنل میں جا پہنچی۔
شعیب اختر کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے بعد اب بولنگ کا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے جس کے باعث ان کی ذمہ داری خاصی بڑھ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کی موجودگی میں ان پر دباؤ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب سینیئر بولر ہونے کے ناطے ان پر دباؤ ہے اور انہیں ہر پہلو پر توجہ دینی ہوتی ہے۔ ایکسٹرا رنز کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور کوشش کرنی پڑتی ہے کہ وہ جذباتی نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے ہر وقت حریف بیٹسمینوں پر پریشر رکھنا پڑتا ہے تاکہ دوسرے اینڈ سے ساتھی بولرز بھی اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وکٹیں حاصل کرسکیں۔ شعیب اختر کہتے محمد سمیع اور شبیراحمد ابھی نئے ہیں۔ کرکٹ درحقیقت ایک کھلاڑی کا کھیل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایشیا کپ سے قبل جو کچھ ہوا وہ اب ماضی ہے جس پر بحث کرکے وقت ضائع کرنے کی بجائے حال اور مستقبل پر توجہ دینی چاہیئے۔ شعیب اختر باب وولمر کی بحیثیت کوچ تقرری کو پاکستان کرکٹ کے لئے انتہائی سودمند قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے آنے سے مثبت تبدیلی آئی ہے۔ ٹیم کی تربیت پہلے سے زیادہ منظم طریقے سے ہو پائے گی۔
شعیب کے بقول یہ درست ہے کہ باب وولمر جس کلچر اور ماحول سے آئے ہیں اسے اپنانا پاکستانی ٹیم کے لئے مشکل ہوگا لیکن اس سے ٹیم کو فائدہ ہوگا اور ڈسپلن بھی آ جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈسپلن محض رات گیارہ بجے کمرے میں آجانے کا نام نہیں بلکہ یہ ٹریننگ سے لے کر میچ کی کارکردگی دکھانے تک کا نام ہے۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ اس وقت ٹیم کے حوصلے بلند ہے۔ کپتان اور کوچ کے ساتھ اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستانی ٹیم ٹور پر گئی۔ شعیب اختر کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی ٹیم بین الاقوامی کرکٹ میں کس قدر مصروف ہو جائے گی لیکن وہ خوش ہیں کہ باب وولمر نے ان کے لئے مربوط پروگرام ترتیب دے رکھا ہے۔ شعیب نے بتایا کہ باب وولمر نے کرکٹ بورڈ کی توجہ روٹیشن پالیسی کی طرف دلائی ہے۔ شعیب کہتے ہیں کہ باب وولمر ذہین کوچ ہیں، فاسٹ بولرز کی اہمیت اور نفسیات کو سمجھتے ہیں اور ان کا وسیع تجربہ ٹیم کے کام آئے گا۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کریں کیونکہ سیٹ اپ بار بار تبدیل ہونے سے کھلاڑی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ایشیا کپ میں چھوٹے رن اپ کے ساتھ بولنگ کرانے کے بارے میں شعیب کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ٹیم کے مفاد میں کیا کیونکہ لمبے رن اپ کے ساتھ بولنگ کرنے سے اوور ریٹ سست ہوجاتا ہے اور کپتان پر پابندی کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ شعیب کے بقول ’وہی کرنا چاہیے جو ٹیم کے لئے مفید ہو۔‘ شعیب اختر کو بھارت کے خلاف بولنگ کا دوبارہ موقع اسی ماہ ہالینڈ میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں مل رہا ہے۔ لیکن وہ بھارت سے زیادہ آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کا انتظار کر رہے ہیں جو اس سہ فریقی سیریز کی تیسری ٹیم ہے۔ وہ کہتے ہیں بھارت کے مقابلے میں آسٹریلیا زیادہ کٹھن حریف ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||