BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 July, 2004, 06:21 GMT 11:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مستقبل روشن ہے تاریک نہیں

انضمام الحق اور باب وولمر
پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر نے ایشیا کپ کے پوائنٹس سسٹم پر تنقید کی ہے
پاکستان ٹیم ایشیا کپ میں اپنے نئے کوچ باب وولمر کے ساتھ آئی تھی جنہیں یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پاکستان میں بمشکل ایک ہفتہ ٹیم کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن کولمبو پہنچنے کے بعد سے انہوں نے جس طرح ٹیم کی ٹریننگ کی اس سے ان کی اپنے فرائض سے محبت اور دیانتداری کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

اس سخت ٹریننگ کے مثبت نتائج مکمل طور پر وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے لیکن ایک جھلک ایشیا کپ میں ضرور نظرآئی ہے۔ کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وولمر کی ٹریننگ ٹیم کے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ آج کل کی کرکٹ میں وہی کرکٹر کامیاب ہے جو مکمل فٹ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو برا نہیں سمجھتے خاص کر سری لنکا کے خلاف شکست کے بعد اس نے جس طرح بھارت کو ہرایا وہ قابل تعریف ہے۔ پاکستان ٹیم کے کپتان کو امید ہے کہ ہالینڈ کے سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ، آئی سی سی چیمپئنزٹرافی اور آنے والے دیگر میچوں میں ٹیم کی کارکردگی بتدریج بہتر ہوتی جائے گی۔

انضمام الحق یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ایشیا کپ کے لئے ٹیم کا انتخاب درست نہیں ہوا لیکن مبصرین اور عام شائقین عمران نذیر کے سلیکشن سے مطمئن نہیں جو ایشیا کپ کے کسی میچ میں توقعات پر پورا نہ اترسکے۔ ہانگ کانگ کے خِلاف ،10 سری لنکا کے خلاف 14، بھارت کے خلاف ایک رن اور بنگلہ دیش کے خلاف پریشر سے عاری میچ میں محض27 رنز ہی بناسکے۔

چیف سلیکٹر وسیم باری نے ٹیم میں عمران نذیر کی شمولیت کو درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے قومی سیزن میں اس کی کارکردگی اچھی رہی ہے لیکن یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ عمران نذیر کو وقتاًفوقتاً مواقع دیئے جاتے رہے ہیں مگر وہ ان مواقعوں سے فائدہ اٹھاکر ٹیم میں مستقل جگہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔جہاں تک ڈومیسٹک سیزن میں عمدہ کارکردگی کی بات ہے تو فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک سنچری اور ون ڈے مقابلوں میں دو سنچریاں کوئی غیرمعمولی پرفارمنس نہیں تھی۔

کپتان انضمام الحق، محمد حفیظ کے حق میں نہیں اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے کئی چانس دیئے جاچکے ہیں اور جو کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز نہیں کرتا اسے انٹرنیشنل کرکٹ کھلانے کے وہ حق میں نہیں۔

یہ درست ہے کہ اس سیزن میں حفیظ بڑا اسکور نہیں کرسکا لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ وہ ایک روزہ کرکٹ کا کارآمد کھلاڑی ہے جس کا اعتماد جاوید میانداد اور عامرسہیل کی باہمی چپقلش میں متاثر ہوا۔ایشیا کپ میں انضمام الحق نےچھٹے بولر اور ایک آل راؤنڈر کی کمی کا ذکر کیا ہے۔ محمد حفیظ کی صورت میں انہیں نہ صرف اچھا بیٹسمین اور چاق و چوبند فیلڈر ملتا بلکہ وہ اپنی آف اسپن بولنگ سے چھٹے بولر کی کمی بھی پوری کرسکتاتھا۔

پاکستان کے لئے ون ڈاؤن پوزیشن بھی مسئلہ بن چکی ہے کیونکہ یوسف یوحنا جنہوں نے ورلڈ کپ سے قبل زمبابوے کی کمزور بولنگ پر رنز کے انبار لگادیئے تھے لیکن اب وہ ون ڈاؤن پوزیشن پر کھیلنے کے لئے تیار نہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو ہر سیریز اور ٹورنامنٹ میں نئے تجربے کرنے پڑتے ہیں۔

کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ مستند اور تجربہ کار بیٹسمین کو اننگز کے درمیانی حصے میں آکر کھیلنے کا فائدہ ہوتا ہے اس سلسلے میں وہ ون ڈاؤن پر لانس کلوسنر پیٹ سمکوکس اور نکی بوئے کو کھلانے کی مثالیں پیش کرتے ہوئے شعیب ملک کو تیسری پوزیشن پر کھلانے کی حکمت عملی کو درست قرار دیتے ہیں۔

ایشیا کپ میں اگر کسی کھلاڑی نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کو متاثر کیا وہ شعیب ملک ہے جو پہلے بھی اوپنر اور ون ڈاؤن کے طور پر غیرمعمولی پرفارمنس دے چکا ہے اور اس ٹورنامنٹ میں اس نے دو سنچریوں کی مدد سے 316 رنز اسکور کرنے کے علاوہ اپنی آف اسپن بولنگ سے9 وکٹیں حاصل کیں۔

یاسر حمید نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے میچ میں سنچری اسکور کی لیکن اس کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کا فقدان رہا۔ پاکستانی بولرز نے ٹورنامنٹ میں بھارتی سیریز کے مقابلے میں بہتر بولنگ کی لیکن ایکسٹرا رنز کی بھرمار کوچ باب وولمر کے لئے پریشانی کا سببب بنی رہی۔

بھارت کے خلاف سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی زبردست تنقید کی زد میں آنے والے شعیب اختر کے لئے یہ ٹورنامنٹ بہت اہم تھا گوکہ انہوں نے میچ وننگ پرفارمنس نہیں دی لیکن اسے ناکام بھی نہیں کہا جاسکتا سب سے بڑی بات یہ کہ کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی کے لئے ایشیا کپ ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا۔

پاکستان کی طرف سے سب سے متاثر کن بولنگ شبیراحمد کی رہی لیکن محمد سمیع کی تگ ودو بدستور جاری رہی جسے باب وولمر نے بھی محسوس کیا اور ان کا کہنا ہے کہ محمدسمیع کو کچھ دنوں کے آرام کی ضرورت ہے۔

سلیکٹرز نے لیگ اسپنر دانش کنیریا کو اس دعوے کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا تھا کہ سری لنکا کی وکٹیں ان کے لئے کارآمد ثابت ہونگی لیکن انہیں صرف ایک میچ کھلایاگیا۔

ایشیا کپ کے بعد پاکستان ٹیم کو ہالینڈ میں سہ فریقی سیریز، انگلینڈ میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور ہوم سیزن میں سری لنکا اور زمبابوے کے خلاف سہ فریقی سیریز کھیلنی ہے جس کے بعد اس کا سب سے بڑا امتحان آسٹریلوی دورہ ہے۔ باب وولمر کو توقع ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کو ایک ایسی ٹیم کا روپ دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جو کسی بھی بڑی ٹیم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد